Al-Risala · October 1978 · page 16

گروہی عصبیت کہاں تک لے جاتی ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۶

گروہی عصبیت کہاں تک لے جاتی ہے

بنومضر اور بنوربیعہ عرب کے دو حریف قبیلے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نسلاً قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے، مسیلمہ، جس نے آپ کے مقابلہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا، قبیلہ ربیعہ سے تعلق رکھتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تو قبیلہ ربیعہ کا سردار طلحہ النمری مسیلمہ کے پاس آیا۔ گفتگو کے بعد طلحہ نے مسیلمہ سے کہا : "میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جھوٹا ہے اور محمد سچے۔ مگر ربیعہ کا کذاب مضر کے صادق سے مجھ کو زیادہ محبوب ہے" یہ کہہ کر مسیلمہ کے ساتھیوں میں شریک ہو گیا۔ (طبری، جلد ۳، صفحه ۲۳۶) مسیلمہ نے قرآن کے جواب میں جو کلام بنایا تھا، اس کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن کی عظمت کو خوب جانتا تھا۔ تاہم گروہی عصبیت کی بنا پر کچھ مسخرہ پن کے جملے وضع کر کے لوگوں کو سنایا کرتا تھا۔ مثلاً اس کا ایک کلام یہ تھا :

یا ضفدع نقى نقی، لا الشارب تمنعین ولا الماء اے مینڈک ٹرٹر کر، نہ تو پانی پینے والوں کو روکتی ہے اور تلك درين، لنا نصف الارض ونقريش نصف الارض، نہ پانی کو گدلا کرتی ہے۔ زمین عرب آدھی ہم ربیعہ والوں کی اور ولكن قريشاقوم يعتدون (طبری جلد ۳، صفحه ۲۵۳) آدھی قریش کی۔ مگر قریش تو زیادتی سے کام لے رہے ہیں۔ جہاز چٹان سے ٹکرا کر چور چور ہو چکا تھا۔

اس کے ٹوٹے ہوئے تختے سمندر کی موجوں میں ہچکولے کھا رہے تھے سینکڑوں مسافر اپنی منزل کے بجائے سمندر کی تہ میں پہنچ چکے تھے۔ اور جہاز کا کپتان ایک تختہ کا سہارا لئے ہوئے چیخ رہا تھا ۔ کتنی بے رحم ہے وہ قدرت جس نے سمندر میں چٹان ابھار دی کیسی ظالم ہے وہ حکومت جس نے یہاں روشنی کا مینار تعمیر نہیں کیا کتنے مجرم ہیں وہ جہاز ساز جنھوں نے جہاز کو حادثہ پر وف نہیں بنایا وہ چیخ رہا تھا، اور چیخ رہا تھا مگر وہاں کوئی سننے والا نہ تھا جو اس کی چیخ کو سنے اس کی آواز فضا میں تحلیل ہوتی رہی یہاں تک کہ وہ بھی اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ سمندر میں غرق ہوگیا اس کا چیخنا اس کے کام نہ آیا اور نہ دوسروں کے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page