ایمان ایک غذا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵
انہوں نے طے کیا کہ وہ بندوق کی گولی سے بھٹو کو قتل کریں گے۔ اور اقتدار کی تبدیلی کے بعد یہ طاقت بہرحال فوجی حکمرانوں کے پاس موجود تھی۔
مگر معروف اور مسلم طریقہ کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نظام مصطفیٰ کے نام پر ایک ایسا نظام آرہا ہے جو نہ تو اسلامی نظام ہوگا اور نہ خالص سیاسی اور اقتصادی معنوں میں پاکستان کے لئے کسی بہتری کا باعث ہوگا۔ اس کا واحد انجام ہے لیاقت علی خاں کے قتل (۱۹۵۱) سے پاکستان میں بربادی کا آغاز ہوا تھا، مزید لامعلوم مدت تک اس میں اضافہ اوپر کی سطریں ۲۵ مارچ 1978 کولکھی گئی تھیں۔ ان کی کتابت ہو چکی تھی کہ بعض وجہ سے ان کی اشاعت کو روک دیا گیا۔ اب اس کو مکمل کر کے شائع کیا جار ہا ہے محمد ایوب خاں نے اپنے زمانہ حکومت (۱۹۶۹ – میں بنیادی جمہوریت (یا محدود جمہوریت ) کا نظام قائم کیا تھا۔ یہ اپنے ڈھانچہ کے اعتبار سے اسلام سے قریب تر تھا، تاہم اسلام پسندوں کو نظر آیا کہ ملک میں اگر بالغ رائے دہی کا نظام قائم ہو جائے تو ان کے لئے اقتدار تک پہنچنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے ملک کے مختلف سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر تحریک جمہوریت چلائی اور اس کو کامیاب بنانے کے لئے توڑ پھوڑ کی حد تک لے گئے۔ تاہم بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پاکستان میں ہونے والے دو انتخابات (۱۹۷۰ء - ۱۹۶۹ء) میں ان کو مکمل ناکامی ہوئی اب پاکستان میں جنرل ضیاءء الحق اور اسلام پسند دونوں ایک مشترک مسئلہ سے دوچار تھے۔ وہ یہ کہ دونوں میں سے کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ وہ بیلٹ بکس کے ذریعہ اقتدار کی کرسی پر پہنچ سکتا ہے۔ جنرل ضیاءالحق نے اس کا حل یہ نکالا کہ انتخاب کے بجائے فوجی طاقت کے ذریعہ پاکستان کے اوپر مسلط ہو جائیں۔ تاہم انہیں ضرورت تھی کہ لوگوں کو دکھانے کے لئے ایک "وزارت" بھی پاکستان میں قائم ہو۔ یہاں اسلام پسندوں کی مایوسانہ نفسیات نے ان کا ساتھ دیا۔ یہ لوگ عوامی انتخابات کے ذریعہ اپنے سیاسی حوصلوں کو پورا نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے جنرل ضیا الحق سے سیاسی مصالحت کر کے عقب دروازہ سے ایوانِ حکومت میں داخلہ حاصل کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق نام نہاد ۳۲ رکنی کابینہ میں تین وزارتیں اسلام پسند حلقے کو ملی ہیں۔ ــــ بھٹو مخالف عناصر کو "وزارت" کی کرسی پر بٹھا کر جنرل ضیا ء الحق سمجھتے ہیں کہ وہ "بھٹو ازم" کو پاکستان سے ختم کر سکیں گے۔ مگر ان کو اور ان کے سیاسی دوستوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ منفی تدبیروں سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ فوجیوں اور اسلام پسندوں کا یہ گٹھ جوڑ کسی بھی درجہ میں پاکستان کے سیاسی مسئلہ کو حل کرنے والا نہیں ہے۔ طویل اختلافی سیاست کے نتیجہ میں پاکستان میں عوامی جمہوریت کا جو ابال آ چکا ہے اور جس کے لانے میں خود اسلام پسند بھی برابر کے شریک ہیں، وہ لاوا کی طرح اندر اندر پک رہا ہے اور موقع پا کر جب ابلے گا تو نہیں معلوم کس کس چیز کو اپنے ساتھ بہا لے جائے ــ جمہوری سیلاب کا واحد روک دائمی فوجی ڈکٹیٹر شپ ہے۔ مگر وہ ایسا ہی ہے جیسے کونین کے بجائے زہر سے ملیریا کا علاج کرنا۔ (۲۴ اگست ۱۹۷۸ء)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues