ایمان ایک غذا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۴
اسلام کے نادان دوست ☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆ ایک شخص تجارت کرے اور اپنی محنت سے کروڑ پتی بن جائے تو اس سے کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوگا۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنے پڑوسی سے چھین جھپٹ کرکے کروڑ پتی بننے کی کوشش کرے تو دونوں کے درمیان دشمنی وجود میں آتی ہے۔ تخریبی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ حتی کہ قتل تک کی نوبت آجاتی ہے۔ مزید یہ کہ سب کچھ لوٹنے کے بعد بھی اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
یہی معاملہ حکومتی تبدیلی کا بھی ہے۔ کسی سماج میں حکومت کی تبدیلی کا جو معروف طریقہ ہے، اگر اس کے ذریعہ حکومت بدلنے کی کوشش کی جائے تو سماج کے اندر کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اپریل ۱۹۷۷ میں ہندوستان میں ہوا۔ جنتا پارٹی نے اندرا پارٹی کو ہٹانا چاہا۔ اس مقصد کے لئے اس نے عوام کی رائے کو ہموار کیا۔ حالات نے اس کا ساتھ دیا اور الیکشن کے معروف اور ومسلّم طریقہ کے مطابق اس نے اندرا حکومت کو ختم کر دیا۔ اندرا گاندھی نے اپنی شکست تسلیم کر لی اور جنتا پارٹی کے لئے جگہ خالی کر دی۔
ٹھیک اسی زمانہ میں پاکستان میں نو پارٹیوں کا متحدہ محاذ وجود میں آیا۔ اس کا مقصد بھٹو حکومت کو ختم کرکے ”نظام مصطفیٰ‘‘ قائم کرنا تھا۔ ساری کوششوں کے باوجود مارچ ۱۹۷۷ کے الیکشن میں اسلامی محاذ ہار گیا۔ اب صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنی ہار کو مان کر دوبارہ کوشش کرتا کہ اگلے الیکشن میں زیادہ بڑے پیمانے پر عوامی تائید حاصل کرے، جیسا کہ ہندوستان میں اندرا پارٹی کررہی ہے۔ مگر اسلامی محاذ نے اس کے برعکس دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے شور مچانا شروع کیا کہ "بھٹو پارٹی دھاندلی کرکے الیکشن جیتی ہے ورنہ عوام کی صد فی صد اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ " اس نے صرف شور وغل پر بس نہ کیا۔ عوام کی منفی جذ باتیت اور تخریب پسندی سے فائدہ اٹھاکر اس نے شہروں میں ہڑتال اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔ یہ صورت حال فوجی افسروں کے لئے بے قیمتی تھی۔ انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھاکر جولائی ۱۹۷۷ء میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ مگر پاکستانی شہروں میں اسلامی محاذ کی توڑ پھوڑ اور فوجیوں کا اسلام آیا د پر قبضہ دونوں ہی معروف مسلم طریقہ کے خلاف تھے۔ اس نے مسئلہ کو ختم نہیں کیا، بلکہ مسئلہ میں اضافہ کردیا۔
فوجی افسران جو فوجی بیرک سے نکل کر اچانک صدارتی محل میں پہنچ گئے، عوام خاص طور پر دیہاتی عوام کی صورت حال سے بالکل بے خبر تھے۔ انھوں نے فوراً اعلان کردیا کہ پاکستان میں ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۷ء کو عام الیکشن ہوگا، بھٹو کی سب سے بڑی سزا یہ ہوسکتی تھی کہ اس کو دوبارہ الیکشن لڑنے کا موقع دیا جائے اور اس کا بیلٹ بکس خالی رہ جائے۔ ایک سیاسی لیڈر کے لئے یہ سزا موت سے بھی زیادہ سخت ہے۔ مگر بھٹو کے نام پر ہونے والے جلسوں کی بھیڑ نے ثابت کردیا کہ فوجی حکمرانوں کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ بھٹو کو اس قسم کی سزا دے سکیں۔ اب انھوں نے دوسرا فیصلہ کیا۔ وہ الیکشن کے ذریعہ بھٹو کو قتل نہیں کرسکتے تھے،
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues