دین اور شریعت کا فرق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷
شاہراہ مقرر کردی ہے۔ تم اسی پر چلو، اِدھر اُدھر کے راسں پر مت چلو۔ ورنہ تم اصل خدائی شاہراہ سے بھٹک جاؤ گے۔ اس شاہراہ کو قرآن میں الالدینِ قیم (ببینہ) حبلی اللہ (آل عمروان) سواء السبیل (مائدہ) اور صراطِ مستقیم (انعام) وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ سورۂ انعام کے ۱۹ ویں رکوع میں چند بنیادی چیزوں کا حکم دینے کے بعد ارشاد ہوا ہے: ان ھذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل کہہ دو کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ، سو تم اسی پر چلو اور فتفرق بكم عن سبيله ذلكم وصکم بہ لعلکم دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ تم کو اصل راہ سے (انعام - ۱۵۳) جدا کر دیں گی۔ اللہ تم کو حکم دیتا ہے تا کہ تم متقی بنو۔
اس آیت میں متفرق راستے (سبل) سے مراد کفر و شرک کے راستے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ راستے ہیں جو دین کے نام پر نکالے جاتے ہیں (قال مجاهد السبل البدع قرطبی)۔ اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے جو کچھ مطلوب ہے وہ واضح الفاظ میں قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے۔ یہ قرآنی تعلیمات عملاً زندگی میں کس طرح متشکل ہوتی ہیں، اس کا واضح نمونہ رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں میں موجود ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے اسی ثابت شدہ الدین پر قائم رہے۔ اس کے سوا دین میں ایسی باتیں نکالنا جو قرآن اور سنت سے بلا اختلاف ثابت نہ ہوں، اِدھر اِدھر کے راستوں پر بھٹکنا ہے جو آدمی کو اصل خدائی راستہ سے دور کر دیتا ہے۔ بطور خود آدمی سمجھتا ہے کہ وہ دین پر چل رہا ہے، حالانکہ اصل خدائی دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
دین اور شریعت کا فرق
الدین کیا ہے۔ یہ تو توحید ہے۔ یعنی ایک ہستی کو خالق و مالک ماننا، اسی کو اپنی تمام تو جہات کا مرکز و محور بنانا، اسی کو اپنا سب کچھ سمجھنا، اسی کے آگے اپنے آپ کو جھکا دینا۔ یہی دین کا اصل سراپا ہے۔ اس کا ہاتھ آنا تمام چیزوں کا ہاتھ آنا ہے۔ یہ اگر چھوٹ جائے تو کوئی بھی چیز آدمی کے حصہ میں باقی نہیں رہتی۔ خواہ ظاہر داری اور جدال کی سطح پر وہ اپنے آپ کو کتنا ہی دین دار ثابت کر رہا ہو۔ قرآن میں اقامت دین کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اسی دین سے متعلق ہے۔ سورہ شوریٰ کی اس آیت میں اقامت دین سے مراد دراصل اقامت توحید ہے۔ یعنی بندے کو حقیقی معنوں میں خدا سے جوڑنا۔ اس کو وحدہ لاشریک کا سچا پرستار بنانا۔ اگر کوئی گروہ عبادت کے جزئی اور اختلافی مسائل پر فقہی نزاع کھڑی کرے یا دین قائم کرنے کے نام پر حکمراں جماعت سے سیاسی مقابلہ آرائی شروع کر دے تو یہ اقامت دین نہیں ہوگا بلکہ قرآن کے الفاظ میں سبل متفرقہ کا اتباع ہوگا جو دین میں قطعاً ممنوع ہے۔ اس قسم کے ذیلی اور اختلافی امور پر معرکہ کھڑے کرنا امت کی وحدت کو ختم کر دیتا ہے۔ امت فرقوں میں بٹ کر اللہ کی اجتماعی نصرت سے محروم ہو جاتی ہے۔ اقامت دین متفق علیہ مسئلہ کے لئے جدوجہد کرنے کا نام ہے نہ کہ مختلف فیہ مسائل کو لے کر مسلمانوں میں جدال و نزاع بر پا کرنے کا۔
دین سے مراد اصلاً اگر چہ توحید ہے۔ تاہم تبعاً اس میں وہ تمام مسائل شامل ہوتے چلے جائیں گے جو قرآن
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues