دین اور شریعت کا فرق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸
سنت کے مطابق متفق علیہ ہوں اور جن میں ایک سے زیادہ رایوں کی گنجائش نہ ہو۔
مثلاً خدا کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کی ربوبیت کو لوگوں کے سامنے لایا جائے تو اس سے اُمت میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہوگا۔ کیوں کہ یہ عقائد محکم آیات و احادیث سے ثابت ہیں۔ اس کے برعکس اگر اس قسم کی بحثیں نکالی جائیں کہ خدا جسم رکھتا ہے یا نہیں ۔ خدا کا عرش کہاں قائم ہے ۔ خدا اپنا نظیر پیدا کرنے پر قادر ہے یا نہیں۔ وغیرہ توان چیزوں میں کبھی تمام امت متفق الرائے نہیں ہو سکتی ۔ کیوں کہ یہ تمام چیزیں استنباطی نوعیت کی ہیں۔ ان میں خوض کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی کا استنباط اس کو ایک رائے کی طرف لے جائے گا، کسی کا دوسری طرف ۔ اس طرح مختلف تعبیرات وجود میں آئیں گی۔ ہر تعبیر کے گرد اہل ایمان کا ایک گروہ جمع ہو جائے گا ۔ ایک دین کے اندر کئی دین بن جائیں گے ۔ اگر اول الذکر معتقدات کی تلقین کی جائے تو یہ اقامت دین ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ثانی الذکر قسم کی اعتقادی موشگافیاں کی جانے لگیں تو یہ قرآن کے الفاظ میں تفرق فی الدین ہے۔ پہلی چیز مطلوب ہے اور دوسری چیز غیر مطلوب۔
یہی معاملہ ان امور کا ہے جن کو عبادات کہا گیا ہے ۔ مثلاً نماز کے لئے وضو کا لازمی ہونا ایک متفق علیہ مسئلہ ہے۔ مگر اس کے ارکان و شروط کی تعداد کے بارے میں ایک سے زیادہ رائیں ہیں۔ سنن و مستحبات کی تعداد تو درکنار فرائض وضو کی تعداد کے بارے میں بھی فقہاء متفق الرائے نہیں ہیں۔ حنفیہ کے نزدیک فرائض وضو چار ہیں ، مالکیہ کے نزدیک سات، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک چھ (الفقه علی المذاہب الاربعہ) اب اگر ان اختلافی امور میں تعداد کے تعین کو بحث و مباحثہ کا موضوع بنایا جائے تو مسئلہ کے استنباطی ہونے کی وجہ سے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ان کی تعداد کے بارے میں سب کی رائیں ایک ہو جائیں ۔ اس قسم کی کوشش اتحاد عملاً صرف اختلاف و انتشار پیدا کرنے کا سبب بنے گی ۔ یہ ایک امت کو کئی امتوں میں تقسیم کر دے گی ۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ امور اتفاقی کو مدار دعوت بناؤ، امور اختلافی کو مدار دعوت نہ بناؤ۔
یہی معاملہ اسلامی سیاست کا ہے۔ اگر ایک شخص ایسا کرے کہ اپنے حکمرانوں کی اصلاح کے لئے اللہ سے دعا کرے ، ان سے انفرادی ملاقات کر کے ان کو خدا پرستی اور آخرت پسندی کی تلقین کرے ۔ سنجیدہ انداز میں تحریر و تقریر کے ذریعہ اسلامی سیاست کے پہلوؤں کو نمایاں کرے تو اس سے امت میں کوئی تفریق وجود میں نہیں آئے گی ۔ اس کے برعکس اگر کچھ لوگ احتجاج و مطالبات کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو جائیں اور سیاسی محاذ بنا کر حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تحریک چلانے لگیں تو اس کے نتیجہ میں لازماً یہ ہوگا کہ امت فرقوں فرقوں میں بٹ جائے گی ۔ ایک فرقہ حکمرانوں کا ساتھ دینے والوں کا ہوگا، دوسرا اس کو اقتدار سے ہٹانے والوں کا ۔ اس طرح امت دو جتھوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دے گی ۔ اقامت دین کے نام پر تفریق فی الدین وجود میں آجائے گا۔
وضو کے آداب و قواعد کی تعداد کا معاملہ ایک استنباطی معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے تعین کے بارے میں اہل علم کی کئی رائیں ہوگئی ہیں۔ یہی کیفیت امت مسلمہ کے سیاسی مشن کی ہے۔ یہ بھی تمام تر ایک استنباطی معاملہ ہے ۔ کیوں کہ قرآن و حدیث میں کوئی نفس ایسی موجود نہیں ہے جو سیاسی مشن کی نوعیت کو صراحۃً متعین کر رہی ہو۔ اسی کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues