Al-Risala · October 1978 · page 29

دین اور شریعت کا فرق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹

یہ نتیجہ ہے کہ اس باب میں اہل علم کی رایوں میں تعدد پایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے ایک گروہ کا اصرار ہے کہ امت مسلمہ کا اصل نصب العین یہ ہے کہ حکومت اسلامی کے قیام کی جدوجہد کی جائے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ حکومت ایک امر موجود ہے ۔ یعنی وہ اللہ کی طرف سے بطور انعام ملتی ہے نہ کہ اس کو نشانہ بنا کر براہ راست جدوجہد کرنے سے۔ ایک اور طبقہ یہ کہتا ہے کہ اصل کام اصلاح معاشرہ ہے نہ کہ اصلاح حکومت۔ معاشرہ کی اصلاح ہو جائے تو خود بخود صالح حکومت قائم ہو جائے، ان نظری اختلافات کے علاوہ حکومت کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں شدید عملی نزاکتیں بھی شامل ہیں ۔ جب بھی کسی بر سر اقتدار گروہ کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی، وہ لازماً اپنی طاقت کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرے گا۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر باہمی قتل وخون وجود میں آئے گا۔ اقامت دین“، عملاً تفریق فی الدین پر منتج ہوگا۔ شریعت کا ایسا معاملہ جس میں ایک سے زیادہ نقطہ نظر قائم کرنے کی گنجائش ہو اس میں تمام لوگوں کو ایک جھنڈے کے نیچے لانے کی کوشش ہمیشہ نتیجہ پیدا کرتی ہے کہ کئی جھنڈے وجود میں آجاتے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ کے لئے حکم دے دیا گیا کہ اختلافی امور کو مدار تحریک نہ بناؤ۔ صرف اتفاقی امور پر اپنی تحریکوں کی بنیاد قائم کرو۔ انھیں اسباب کی بنا پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ صدر اول کے بعد خلافت، ملوکیت میں تبدیل ہو گئی اور ہزار برس تک چلتی رہی مگر صلحائے امت نے کبھی اس کے خلاف خروج نہیں کیا۔ انھوں نے حکمرانوں کو انفرادی نصیحتیں کیں مگر ان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے کوئی ایجی ٹیشن نہیں چلایا۔ یہ صرف عصر حاضر کی نظامی تحریکوں کی دین ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو سیاسی انقلاب کو امت مسلمہ کا اصل مشن بتاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہر مسلم ملک میں مسلمانوں کے دو جھیتے بن گئے ہیں۔ ایک حکمران گروہ کا۔ دوسرا ان کے مخالف انقلابیوں کا۔ دونوں مسلم گروہوں کے درمیان لا متناہی سیاسی جنگ جاری ہے جو حرث اور نسل کی ہلاکت (بقرہ (۲۰۵) کے سوا کوئی اور تحفہ مسلمانوں کو نہیں دے رہی ہے۔ اور یہ سب کچھ ہورہا ہے اقامت دین کے نام پر سیاسی مشن کی نوعیت کے بارے میں علمائے امت کے درمیان کئی رائے کا پایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی تحریکات کا مسئلہ ”سبل متفرقہ“ کے ذیل کا مسئلہ ہے نہ کہ ”الدین“ کے ذیل کا مسئلہ۔ اس لئے ایک مصلح کے لئے یہ تو درست ہے کہ وہ مسلم حکمرانوں کے اندر بگاڑ دیکھے تو ناصحانہ انداز سے اس کو اصلاح حال کی تلقین کرے۔ مگر دین کی اقامت کا نام لے کر حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کرنا کتاب اللہ سے انحراف کے ہم معنی ہے۔ یہ سبل متفرقہ کا اتباع ہے نہ کہ حقیقۃً اقامت دین۔

اس تقسیم کا یہ مطلب نہیں کہ دین میں صرف کلیات مطلوب ہیں، جزئیات مطلوب نہیں ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ دین میں مطلوب حقیقی اور مطلوب اضافی کا جو فرق ہے اس کو ملحوظ رکھا جائے ۔ حقیقی حصہ میں تائید و تشدید کرتے ہوئے اس کے اضافی اجزاء میں توسع اور رواداری کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کھانے کے سلسلہ میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ حرام و حلال کے درمیان فرق کیا جائے۔ صرف حلال چیزوں کو اپنی غذا بنایا جائے اور حرام چیز کو حلق کے نیچے نہ اتارا جائے ۔ دوسرا مسئلہ آداب

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page