دستِ او معمار تقدیر امم
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۱
قرآن میں اگر ساتویں صدی عیسوی کی دنیا سے متعلق سارے احکام و ضوابط بالتفصیل درج کر دیئے جاتے جب بھی بہت سی قانونی باتیں لکھنے سے رہ جاتیں ، جیسے سمندری قوانین ، خلائی ضوابط وغیرہ ۔ کیوں کہ ان مسائل کا اُس وقت کوئی وجود ہی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دینِ کامل کا یہ مطلب لیا جائے تو اسلام بھی دینِ کامل نظر نہ آئے گا۔ امیرِ ہمدانی کی مثال مذکورہ اسلامی ترقی کار کی ایک مثال کشمیر کی تاریخ میں پائی جاتی ہے۔ کشمیر کو عام طور پر لوگ اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے جانتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں اس سے بھی زیادہ بڑی چیز موجود ہے۔ یہ اسلامی ترقی کار کا وہ نمونہ ہے جو میر سید علی ہمدانی (1314-1384ء) ۱۳۸۴ء - کی زندگی میں ملتا ہے۔ موصوف نے، جن کو کشمیری عام طور پر "امیر کبیر" کہتے ہیں اپنے عمل سے ایک عظیم قابلِ تقلید نمونہ قائم کیا ہے جس کی مثال حالیہ صدیوں میں کم ملے گی۔ کشمیر اپنے قدرتی مناظر کی وجہ سے اگر جنت نظیر ہے تو اپنے تاریخی نمونہ کے ذریعہ وہ ہم کو اسلام کے طریقِ دعوت کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال (۱۹۳۸ء - نے امیر کبیر کی بابت کہا تھا :
دستِ او معمار تقدیر امم
امیر کبیر کی بابت یہ الفاظ صد فی صد درست ہیں۔ موجودہ مسلم کشمیر زیادہ تر آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ مگر امیر کبیر نے یہ کام "شمشیر و سناں‘‘یا’’ یا "بازو مانہ سٹینز کے ذریعہ نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ رہا ہے۔ انھوں نے یہ کامیابی ’’شمشیروسناں‘‘ کو ترک کر کے حاصل کی۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ــــــــ اسلام کو زندہ کرنا چاہتے ہو تو مقابلہ آرائی کے ذہن کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دو، مذہبی اور سیاسی جھگڑے کھڑے کرنے سے مکمل پر ہیز کرو۔ اس کے بعد تم کو خدا کی نصرتیں ملیں گی اور اسلام اور مسلمانوں کو عزت و سر بلندی حاصل ہوگی۔ میر سید علی ہمدانی ایران کے رہنے والے اور تیمور لنگ لنگ(1335-1405ء)کے کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور ان سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لئے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف جہاد کا نعرہ لگائیں اور ایران میں حکومتِ صالحہ قائم کرنے کی جد وجہد کریں خواہ اس کے نتیجہ میں ان کو شہید ہو جانا پڑے۔ مگر امیر کبیر نے سیاسی تصادم سے پر ہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکل پڑے ۔ افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ ۱۷۸۱ء میں کشمیر پہنچا جس کو امیر کبیر اس سے پہلے ۷۲ ، ھ میں سیاحت کے دوران دیکھ چکے تھے۔ کشمیر پہنچ کر دوبارہ موقع تھا کہ یہاں سے شاہ تیمور کے خلاف سیاسی تحریک چلائی جائے۔ تیمور کے معاصرین میں ایسے لوگ تھے جو سیاسی وجوہ سے اس سے بغض رکھتے تھے۔ امیر کبیر ان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر تیموری اقتدار کو ختم کرنے کی مہم جاری رکھ سکتے تھے۔ مگر امیر کبیر نے اس قسم کی کسی بھی کارروائی سے مکمل پر ہیز کیا۔ اسی طرح قیادت کا ایک اور راستہ ان کے لئے پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ یہ اس وقت کے کشمیری مسلمانوں کی اقلیت کے معاشی اور سماجی حقوق کا مسئلہ تھا۔ اس وقت کشمیر میں اگر چہ ایک مسلم خاندان کا راج تھا۔ مگر کشمیری مسلمان ریاست میں ایک کمزور اور غریب اقلیت
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues