دستِ او معمار تقدیر امم
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲
کی حیثیت رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ ان سے جبراً خاجوں کے نذرانے وصول کئے جاتے تھے۔ امیر کبیر ان کی سے حقوق طلبی کی مہم چلا کرفی الفور مسلمانوں کے قائد بن سکتے تھے۔ مگر امیر کبیر نے اس قسم کی ’’ملی سیاست‘‘ سے بھی کوئی سرو کار نہ رکھا۔
اسی طرح امیر کبیر کے لئے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ ’’انسانیت‘‘ کے پیام پر بن کر اٹھیں اور ریاست کے مختلف فرقوں کو امن کے ساتھ رہنے کا وعظ سنائیں۔ ایسا کر کے وہ بہت جلد دونوں فرقوں کے درمیان ہر دلعزیزی اور مقبولیت حاصل کر سکتے تھے۔ کیوں کہ ہر وہ تحریک لوگوں کو بہت پسند آتی ہے جس میں حق و باطل کا مسئلہ چھیڑے بغیر رواداری اور میل جول کا اپدیش دیاگیا ہو۔ جس میں کوئی اپنے اوپر زبردستی ہوتی محسوس نہ کرے۔ مگر اس قسم کی تحریک جلسوں اور تقریروں کی سطح پر خواہ کتنی ہی کامیاب نظر آئے، عملی نتیجہ کے اعتبار سے وہ ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کام کا اسلامی دعوت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا کام، اپنی ظاہری خوش نمائی کے باوجود، صرف مسائل دنیا کی طرف متوجہ کرنے کا کام ہے۔ جب کہ اسلامی دعوت کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو مسائل آخرت کی طرف متوجہ کیا جائے۔ امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف ردعمل کے طور پر بنا اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ (سلطان قطب الدین) کی حکومت تھی۔ اس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں۔ آپ نے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اصلاح حال کی طرف متوجہ کیا۔ تاہم آپ نے اس کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کی جگہ صالح حکمران لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خود اپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ پھر یہ پروگرام بھی کوئی کنونشن یا کانفرنس کا انعقاد نہ تھا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ وہ اور ان کے رفقاء ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور خاموشی کے ساتھ یہاں کے باشندوں میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی۔ یہاں کے حالات سے اپنے کو ہم آہنگ کیا۔ اپنی دیس میں اپنے لئے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ اس طرح صبر و برداشت کی ایک زندگی گزارتے ہوئے اپنے خاموش دعوتی مشن کو جاری رکھا۔ کشمیر میں اسلام کشمیر میں اسلام کا ابتدائی داخلہ اگرچہ محمد بن قاسم (۹۶ - ۷۱ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ تاہم ریاست میں اسلام کی نمایاں اشاعت غالباً سید بلبل شاہ قلندر ترکستانی کے وقت سے شروع ہوئی۔ سات سو سال پہلے کشمیر میں ایک بدھ راجہ رینچن شاہ کی حکومت (۷۲۳ - ۱۳۲۰ء) تھی۔ یہ راجہ سید بلبل شاہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوا۔ اس زمانہ میں لوگ اپنے سرداروں کے دین پر ہوتے تھے۔ راجہ کو دیکھ کر کشمیریوں کی ایک تعداد مسلمان ہوگئی۔ حضرت بلبل شاہ صاحب فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے۔ چنانچہ اس وقت جو لوگ مسلمان ہوئے، ان کے اثر سے وہ حنفی مسلک کے مطابق عبادت کرنے لگے۔ میر سید علی ہمدانی کی تبلیغ سے جب کشمیری باشندے مسلمان ہونے لگے تو ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ’’یہ مسلم کس فقہی مسلک پر عبادت کریں؟ ‘‘ حضرت امیر کبیر خود شافعی المسلک تھے اور اس وقت کشمیر میں جو مسلمان تھے وہ حنفی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues