دستِ او معمار تقدیر امم
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴۴
یا اس کو پوری ملت کا مشترک مسئلہ بنا کر اس کی بنیاد پر تحریک چلانے کا طریقہ انھوں نے اختیار نہیں کیا۔ اس طرح سیاست کا نعرہ نہ لگانے کے باوجود ان کی ایک سیاست تھی، بلکہ نہایت گہری سیاست تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج کشمیر کو یہ مقام نہ ملتا کہ یہاں صرف سُبلم وزارت بنتی ہے۔ دوسری وزارت بننے کا یہاں کوئی سوال نہیں۔ تخمینہ کہ یہ سیاسی عطیہ تمام تر امیر کبیر کی دین ہے۔ اگر چہ معروف معنوں میں انھوں نے کوئی سیاسی پروگرام اپنی زندگی میں نہیں چلایا اور نہ کوئی ان کو سیاسی لیڈر" کی حیثیت سے جانتا ہے ۔ امیر کبیر ہر چیز کے پیچھے نہیں دوڑے ۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ حقیقت کا سرا پکڑ لیا ۔ اس کے بعد سب چیزیں خود بخود ان کی طرف چلی گئیں۔ ۔
خلاصہ
دین میں اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی شرک سے مکمل طور پر بچے اور صرف خدا ئے واحد کو اپنا مرکز توجہ بنائے۔ اسی سے پوری زندگی سدھرتی ہے۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اسی کی سب سے زیادہ تاکید کریں اور اسی کو دعوت و تبلیغ کی بنیاد بنائیں۔ اس کے بعد تفصیلی معاملات میں دین کے جو تقاضے مطلوب ہیں ان میں حالات کے مطابق کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ تاہم ان چیزوں کو دعوتی مہم کے طور پر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری نوعیت کے کسی مسئلہ کو جب آدمی مدار دعوت بناتا ہے تو گو یا وہ ایک فرعی مسئلہ کو اساسی مسئلہ کے مقام پر رکھتا ہے ۔ اس قسم کا کوئی عمل دین کے نظام کو درہم برہم کر دینے والا ہے۔
آپ ایک خاص فقہی مسلک کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں تو کیجئے۔ ۔ مگر اس کی بنیاد پر مسجد اور مدرسہ نہ بنائیے، آپ ایک طریقہ کے تقدس کے قائل ہیں تو قائل رہئے۔ مگر اس کو دوسروں کی اسلامیت ناپنے کا پیمانہ مت قرار دیجئے۔ ۔ کسی مسلم حکمران نے بنیادی جمہوریت کا نظام قائم کر رکھا ہے اور آپ اس کے مقابلہ میں ’’عوامی جمہوریت‘‘ کو صحیح سمجھتے ہیں تو نا صحانہ انداز میں اپنی بات دوسروں تک پہنچائیے۔ مگر اس مسئلہ کو لے کر ملک کو سیاسی اکھاڑامت بنائیے۔ اگر آپ کو نظر آتا ہے آپ کی ملت کے معاشی اور سماجی حقوق پامال ہو رہے ہیں تو لوگوں میں یہ جذبہ ابھاریئے کہ وہ قوت وامانت (قصص 26) کے ذریعہ اپنا مسئلہ آپ حل کرنے کی کوشش کریں۔ مگر اس کو لے کر مفروضہ ظالموں کے خلاف احتجاج اور مطالبات کا طوفان برپا نہ کیجئے۔ ۔ اس قسم کی ہر تحریک دین کے سبیل واحد کو چھوڑ کر مسل متفرقہ پر دوڑنا ہے ایسی کوششیں خواہ وہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ کی جائیں، عملاً صرف فساد برپا کرتی ہیں۔ وہ نہ صرف آدمی کو حقیقی خدا پرستی سے دور کر دیتی ہیں، بلکہ امت کو مختلف ٹولیوں اور جماعتوں میں تقسیم کر دینے کا باعث بنتی ہیں۔ اور امت کا تقسیم ہونا اللہ تعالیٰ کو اتنا زیادہ ناپسند ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ کی اجتماعی نصر تیں اٹھا لی جاتی ہیں اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں جب تک امت اپنی تفریقات کو ختم کر کے دور بارہ امت واحدہ نہ بن جائے۔ نوٹ: یہ مقالہ جمعیت اہل حدیث جموں وکشمیر کے سالانہ اجلاس بمقام سرینگر کے موقع پر ۳۰ جولائی ۱۹۷۰ء کو پڑھا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues