دستِ او معمار تقدیر امم
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳
المسالک۔ امیر کبیر اگر ان نو مسلموں کو اپنے فقہی مسلک کی تلقین کرتے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں میں دو گروہ بن جاتے۔ ایک امیر کبیر کے ہاتھ پر اسلام لائے ہوئے لوگوں کا ۔ دوسرا بقیہ کشمیری مسلمانوں کا۔ حنفی اور شافعی کا جھگڑا نہ صرف دونوں کے مدرسوں اور مسجدوں کو الگ کر دیتا بلکہ اپنے اپنے فقہی مسلک کی صحت و افضلیت ثابت کرنے کی کوشش میں اصل تبلیغی کام پس پشت پڑ جاتا۔ کشمیری مسلمان دو جتھوں کی صورت اختیار کر کے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیتے۔ وہ قوت جو دین حق کی اشاعت میں صرف ہوتی آپس کے جھگڑوں میں برباد ہو جاتی۔ نسلیں گزر جاتیں مگر یہ اختلاف کبھی ختم نہ ہوتا۔
میر سید علی ہمدانی نے صرف اساسات دین کی تبلیغ کی۔ انھوں نے فقہی مسلک کی کوئی بحث نہیں چھیڑی۔ انھوں نے یہاں تک احتیاط کی کہ اپنا شافعی المسلک ہونا اپنے پیرووں سے پوشیدہ رکھا۔ عام مسلمانوں کے ساتھ خود بھی حنفی طریقہ پر نماز پڑھتے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اسی کے مطابق عبادت کرنے کی تلقین کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر میں ان کو کام کرنے کے مکمل مواقع ملے۔ ان کو ہر طبقہ کا تعاون حاصل رہا۔ غیر متعلق مسائل کے الجھادوں سے وہ بالکل محفوظ رہے۔ اپنی دعوتی جدوجہد میں ان کو اتنی کامیابی ہوئی کہ کشمیر دائمی طور پر مسلم اکثریت کا علاقہ بن گیا۔ امیر کبیر اگر یہاں حنفی مسلک اور شافعی مسلک کی بحثیں چھیڑتے تو ان کو یہ کامیابی نہیں ہوسکتی تھی۔ اور بالفرض اگر کوئی کامیابی ہوتی تو وہ بھی اس قیمت پر کہ ان کی آمد کشمیری مسلمانوں کو دو متحراب فرقوں میں بانٹ دینے کا سبب بن جاتی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لوگ اس راہ پر چلیں ان کا کسی سے اختلاف نہیں ہوگا۔ بامقصد آدمی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ خود امیر کبیر کے حالات بتاتے ہیں کہ ۷۳ سال کی عمر میں موضع پچھلی (کشمیر) کے کچھ شریرہ لوگوں نے آپ کو زخمی کر دیا۔ اور اسی میں آپ کا انتقال ہوا۔ تاہم اس قسم کا اختلاف محض ذاتی وجوہ سے ہوتا ہے اور وہ داعی کو صرف ذاتی نقصان پہنچاتا ہے جب کہ ایک غیر دینی مسئلہ کو دینی بنانا دین میں فرقہ بندی کو جنم دیتا ہے جو اتنا بڑا جرم ہے کہ کسی گروہ سے وہ تمام نعمتیں چھن جاتی ہیں جو کتاب الہی کا حامل ہونے کی حیثیت سے اس کے لئے مقدر کی گئی تھیں ۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی کی زندگی اسلامی طریق کار کی نہایت کامیاب عملی مثال ہے۔ اپنی دعوتی جدوجہد میں انھوں نے جس چیز کو مرکز توجہ بنایا وہ توحید و آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ سیاسی مسئلے، معاشی مسئلے، فقہی مسئلے انھوں نے بالکل نہیں چھیڑے۔ وہ اصل دین پر کونسور ہے نہ کہ متفرقات دین پر۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے نزدیک سیاست اور معاش دین سے خارج تھی یا عبادت کی ادائگی میں آداب اور مناسک کے لحاظ کو وہ غیر ضروری سمجھتے تھے۔ وہ ہر ایک کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اور ہر چیز کو انھوں نے بالفعل اختیار کیا۔ تاہم انھوں نے جس چیز کو دعوت و اقامت کا عنوان بنایا وہ متفق علیہ دین تھا نہ کہ سہل متفرقہ۔
امیر کبیر فقہ کی تمام شرائط کے مطابق مکمل نماز پڑھتے تھے مگر فقہی اختلافات کے پیچھے پڑنا، ایک مسلک کو غلط ثابت کرکے اس کی جگہ دوسرے مسلک کی ترجیح قائم کرنا، انھوں نے اپنا مشن نہیں بنایا۔ اسی طرح معاشیات کے سلسلے میں انھوں نے ایک راستہ اختیار کیا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ اور ان کے ساتھی زندہ کیسے رہ سکتے تھے۔ مگر معاشی مسائل کو حل کرنے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues