Al-Risala · February 1978 · page 12

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲

سرکس ہو رہا تھا۔ تماشائیوں کو طرح طرح کے کھیل دکھائے جارہے تھے۔ اتنے میں ایک ’’انسان‘‘ لوگوں کے سامنے لایا گیا۔ اس نے عجیب عجیب تماشے دکھا کر لوگوں کو خوش کرنا شروع کر دیا۔ ابھی کھیل ختم نہیں ہوا تھا کہ تماشائیوں میں سے ایک شخص نے اس ’’انسان‘‘ کی طرف ایک کنکر پھینک دیا ۔ اس کے بعد ’’انسان‘‘ نے ایک زور دار چھلانگ لگائی۔ وہ شاید اپنے حملہ آور تک پہنچنا چاہتا تھا۔ مگر وہ چاروں طرف لگے ہوئے مائک سے ٹکرا گیا۔ اس کے ٹکراتے ہی اس کے چہرے کا مکھوٹا(MASK)گر (MASK) گر گیا۔ اب معلوم ہوا کہ وہ حقیقتاً ایک جانور تھا جو انسانی بھیس بدلے ہوئے تماشا دکھا رہا تھا۔ سرکس کے اسٹیج پر یہ واقعہ شاید ایک ہی بار پیش آیا ہو۔ مگر انسانی بستیوں میں ایسے واقعات ہر روز سامنے آرہے ہیں۔ لوگ بظاہر انسان جیسے چہروں کے ساتھ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی بات ان کو غصہ دلانے والی پیش آ جائے تو اچانک وہ اپنا انسانی لبادہ اتار پھینکتے ہیں۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل حیوان تھے۔ البتہ انھوں نے اوپر سے انسانی مکھوٹا پہن رکھا تھا۔ خلاف مزاج بات پیش آتے ہی وہ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے لا شعور (آدمی کی اصل ہستی) کو سمجھنے کا بہترین نفسیاتی وقت وہ ہوتا ہے جب کہ وہ ذہنی اختلال میں مبتلا ہو۔ اسی طرح شکایت اور اختلاف کا وقت آدمی کے دین و اخلاق کا امتحان ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ آدمی ٹھیک اسی وقت ناکام ہو جاتا ہے جب کہ اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہئے۔

فہرست یہ انسان !

قال الله، قال الرسول اسلام کا علمی اظہار پاکستان میں بھٹو ازم عبرت ناک اقتباس شہادتِ حسین : ایک مطالعہ جاحظ اور حریری عربی خط میں ارتقاء ادبی استدلال اسلام اکیسویں صدی میں الٹی سمت میں سفر چند واقعات یہاں سرخ نشان اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی مدتِ خریداری ختم ہوچکی ہے۔

براہ کرم اپنا سالانہ زرِ تعاون روانہ فرمائیں۔ تاکہ الرسالہ آپ کے نام جاری رکھا جاسکے۔

ماہنامہ الرسالہ جمعیۃ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۱۱۰۰۰۶

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page