اس میں نصیحت ہے
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳
ایسی بحثیں نہ چھیڑو جو لوگوں کو اللہ سے غافل کر دے ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغیر علم ویتخذھا ھزوا اولئك لھم عذاب مھین ۔ واذا تتلى عليه آيتنا ولى مستكبراً كان لم يسمعھا كان فى اذنیہ وقراً فبشره بعذاب الیم (لقمان ٦-۷)
اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے کہ مول لیتا ہے غافل کرنے والی بات کو تاکہ اللہ کی راہ سے لیے سمجھے بھٹکا دے اور اس کی ہنسی اڑائے۔ ایسے لوگوں لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ گھمنڈ کے ساتھ اس طرح منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس کو سنا ہی نہیں۔ جیسے اس کے کان بہرے ہیں۔ اس کو خبر دے دو دکھ والے عذاب کی ۔
اس آیت میں لہو الحدیث سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے میں بعض واقعات تفسیر کی کتابوں میں آئے ہیں عبداللہ بن مسعود رض نے اس کی تفسیر غنار سے کی ہے اور ضحاک نے شرک سے (ابن کثیر) مگر مفسرین کے اصول کے مطابق، اس کا شان نزول گو خاص ہو تاہم عموم الفاظ کی وجہ سے اس کا حکم عام رہے گا۔ جو لہو یا شغل بھی سبیل اللہ سے ہٹانے کا سبب بنے وہ سب درجہ بدرجہ اس میں شامل ہوگا۔ ابن جریر نے کہا ہے کہ ہر وہ کلام لہو الحدیث ہے جو اللہ کی آیتوں سے روکے اور اس کے راستہ کے اتباع سے ہٹائے (كل كلام يصد عن آيات الله واتباع سبيله) حسن بصری نے کہا کہ ہر وہ چیز لہو الحدیث ہے جو اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے ہٹانے والی ہو مثلاً فضول قصہ گوئی، ہنسی مذاق کی باتیں، بے کار مشغلے، گانا بجانا وغیرہ (كل ما شغلك عن عبادة الله وذكره من السمر والاضاحيك والخرافات والغناء ونخوها، روح المعانی)
موجودہ زمانہ میں کون سی چیزیں جو لہو الحدیث کا مصداق ہیں ۔ وہ تمام تفریحی تماشے اور وہ ستا لٹریچر اس میں شامل ہے جو اپنی سنسنی خیزی اور رومانیت کی وجہ سے لوگوں کے لئے ذہنی شراب بنا ہوا ہے۔ اس میں وہ مقدس حلقے بھی شامل ہیں جنھوں نے بناوٹی قصے کہانیوں کی ایک مذہبی طلسم ہوش ربا تیار کر رکھی ہے اور اس کو سنا سنا کر لوگوں کو مد ہوش رکھتے ہیں۔ وہ شعر و شاعری اور خطابت بھی اس میں شامل ہے جو لفظ بازی کے کے کرتَب دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس میں وہ سیاسی تحریکیں بھی شامل ہیں جو سیاست کی چاشنی تقسیم کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کئے ہوئے ہیں۔ پھر اس میں وہ تمام مذہبی مناظرے بھی شامل ہیں جو لوگوں کے ذہنوں کو غیر متعلق بحثوں میں الجھا کر سواد اعظم سے دور کر دیتے ہیں۔ غرض وہ تمام آوازیں جو عوامی دلچسپی کا سامان پیدا کرکے لوگوں کو حق کی سنجیدہ دعوت سے ہٹائیں اور اللہ کے سیدھے سادے دین سے بے رغبت کریں۔ وہ سب درجہ بدرجہ اس میں شامل رہیں گی۔ خواہ اپنے اس مشغلہ کو انھوں نے ارادہ حق سے روکنے کے لئے جاری کیا ہو یا ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے بطور واقعہ یہ نتیجہ برآمد مورہا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues