Al-Risala · November 1978 · page 2

اس میں نصیحت ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲

بسم الله الرحمن الرحيم

پڑھے لکھے لوگوں کی ایک نشست میں راقم الحروف کو کچھ باتیں کہنے کا موقع ملا۔ میں نے کہا: ہمارا اصل مسئلہ زندگی کا مسئلہ نہیں، ہمارا اصل مسئلہ موت کا مسئلہ ہے۔ زندگی میں ہم بہت سی چیزوں کے مالک نظر آتے ہیں ۔ عہدہ، مکان، جائداد، حیثیت، اعوان و انصار۔ مگر موت ان تمام چیزوں کو باطل کر دے گی ۔ اچانک ہم اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پائیں گے جہاں ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہ ہوگا اور سارا فیصلہ مکمل طور پر اللہ کے اختیار میں ہوگا۔ اس لئے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ اس آنے والے دن کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی کا نظام بنایا جائے ۔ کیونکہ بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب بہت سی وہ باتیں بالکل بے قیمت ہو جائیں گی جن کو آج ہم قیمتی سمجھ کر ان کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ “ میری باتیں ابھی ختم بھی نہیں ہوئی تھیں کہ ایک مسلم لیڈر بولے: ”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا ذہن کنفیوژن کا شکار ہے۔ آپ کوئی بات نہیں پا رہے ہیں جو لوگوں سے کہیں مذکورہ لیڈر کے دل میں جو بات تھی وہ انھوں نے صفائی سے کہدی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آج اکثر قائدین کا یہی حال ہے۔ آخرت کی بات کو وہ کوئی دعوتی اسنو نہیں سمجھتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کوئی نظر نہیں آتا جو دنیا کو آخرت کی خبر دینے کے لئے بیتاب ہو۔ ہر ایک کے پاس دنیوی فلاح اور سیاسی انقلاب کے نعرے ہیں۔ آخرت کی چیتا ونی کو کوئی شخص کام ہی نہیں سمجھتا۔ یہ قائدین اگر خاموش ہو کر بیٹھ جائیں تو وہ زیادہ بہتر طور پر بندگان خدا کی خدمت کریں گے۔ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو انسان کو غیر حقیقی مسائل میں الجھا کر اصل حقیقت سے دور کر رہے ہیں۔

اس میں نصیحت ہے

انگلستان میں یہ قانون ہے کہ جانور کو ذبح نہ کیا جائے بلکہ کرنٹ کے ذریعہ ہلاک کیا جائے۔ اور اگر ذبح کیا جائے تو پہلے جانور کو بیہوش کر لیا جائے۔ مگر دونوں صورتوں میں ذبح کے اسلامی حکم پر عمل نہیں ہوتا۔ تا ہم پچھلے دس سال سے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کو ذبحیہ کی اجازت مل گئی ہے، برمنگھم میں ۱۹۴۰ء سے ایک حلال میٹ کمپنی قائم ہے۔ اس کا کام اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس وقت روزانہ تین ہزار سے چار ہزار تک جانور اور ۱۸ ہزار مرغیاں ذبح کی جاتی ہیں۔ اس کا اسٹاف ۷۵ لوگوں پر مشتمل ہے۔ برطانیہ میں مسلمانوں کو یہ سہولت کیونکر حاصل ہوئی، برطانیہ کے ایک مسلمان اقبال مسعود ندوی لکھتے ہیں : ”یہاں ایک اور فرقہ ہے جو اپنے طریقہ کے مطابق جانور ذبح کرتا ہے۔ یہ یہود کا فرقہ ہے۔ حکومت ان سے تعرض نہیں کرتی۔

ایک وجہ ان کی اقتصادی سیاسی اہمیت ہے۔

ان کا معیار بھی خاصا اونچا ہے۔ بلکہ دراصل اس فرقہ کے ساتھ رعایت ہی کی وجہ سے یہاں پر ذبحیہ کی اجازت مل سکی ہے۔ “ الحسنات رام پور فروری ۱۹۷۸ء صفحہ 27 یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ اغیار کے پیدا کردہ حالات کس طرح کبھی اسلام کے لئے مفید بن جاتے ہیں۔ اسی طرح کبھی اس کے برعکس صورت حال بھی پیش آتی ہے۔ یعنی مسلمان اپنی نادانی سے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ اسلام کے لئے موافق حالات برباد ہو جائیں۔ ایک ایسی جد و جہد جو اسلام کے نام پر کی گئی ہو، بالآخر وہ غیر اسلامی نتیجہ پر ختم ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page