جب لوگ اندھے اور بہرے ہو جائیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۵
کائنات کی ابتدا منظم منصوبہ کے تحت ایک طاقت کے اخراج سے ہوئی، یہ ایک انتہائی پیچیدہ نوعیت کا واقعہ تھا جس کے بعد اس کے تمام اجزاء بالکل یکساں رفتار سے چاروں طرف پھیلنے لگے ۔ مگر ہمارا شمسی نظام ایک حیرت انگیز استثنا نہ ہے جو اپنی الگ رفتار سے چل رہا ہے اس قسم کے واقعات بتاتے ہیں کہ یہ کائنات کوئی الٹ پپ حادثہ نہیں، بلکہ ایک باشعور ارادہ ہے جو اس کے پیچھے کام کر رہا ہے۔
موجودہ زمانہ کے فلکیاتی نظریات میں سے ایک کائنات اپنے چاروں طرف بالکل یکساں رفتار سے پھیل نظریہ وہ ہے جس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اندازہ ہے رہی ہے۔
کہ تقریبا پندرہ بلین سال پہلے کائنات ایک سمٹے ہوئے اکثر سائنس داں یہ یقین رکھتے ہیں کہ کائنات واحد مادہ کی صورت میں تھی۔ یہ ابتدائی مادہ جس کو بعض ایک عظیم دھماکہ سے شروع ہوئی۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ سائنس دانوں نے " سپراٹیم " کا نام دیا ہے ، اس کے ایک منتشر حالت تھی جس سے مادہ میں ایک بھنور کی کیفیت تمام اجزاء اندر کی طرف شدت سے کھینچے ہوئے تھے۔ پیدا ہوئی۔ مگر جدید شواہد بظاہر بتا رہے ہیں کہ معروف اس کے بعد اس ابتدائی مادی مجموعہ میں زبردست دھماکا معنوں میں یہ کوئی " دھماکہ “ نہیں تھا، بلکہ اخراج طاقت ہوا۔ اس دھماکہ کے نتیجہ میں اس کے اجزاء چاروں طرف (ENERGY RELEASE) کا ایک پرسکون واقعہ تھا پھیلنے لگے اور بالآخر موجودہ کائنات ، اپنے تمام ستاروں جس کی حقیقت ابھی ہم سمجھ نہیں سکے ہیں۔ یہ اس سے اور سیاروں سمیت بن گئی۔
حال میں کیلی فورنیا کے دو سائنس داں ایسے نئے حقائق تک پہنچے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑا دھماکہ (بگ بینگ) اس سے بہت زیادہ پرسکون اور بیک گراؤنڈ شعائیں ہیں جو ناسا کے یو ۔ ۲ جہاز میں منظم واقعہ (ORDERLY EVENT) تھا جتنا کہ عام طور لگے ہوئے نازک آلات نے پتہ کی ہیں۔ یہ مخصوص جہاز پر سمجھا جاتا ہے۔ امریکی ادارہ ناسا کے ایک اعلامیہ میں ۲۰ ہزار میٹر کی بلندی تک اڑایا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے ڈاکٹر ریکارڈ ملر اور ڈاکٹر جارج اسموٹ (کیلی فورنیا کہ یہ شعائیں ابتدائی دھماکہ کے وقت نکلی تھیں۔ ان یونیورسٹی) نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی تحقیق میں پایا کہ شعاعوں کا علم ابتدا ء ۱۹۶۵ میں ہوا تھا یو ۔ ۲ جہاز
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues