Al-Risala · January 1978 · page 6

جب لوگ اندھے اور بہرے ہو جائیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۶

نے معلوم کیا ہے کہ یہ شعاعیں کائنات کے ہر حصہ میں پائی سے علیحدہ ہورہی ہیں۔ " یہ صورت حال ہمارے مسلمات جاتی ہیں۔ ان میں اتنی نظم و ترتیب ہے کہ ان کے ذریعہ کے کسی قدر خلاف ہے ۔ " ڈاکٹر اسموٹ نے کہا " کیوں کہ اگر آسمانی اجرام کی رفتار کو نہایت صحت کے ساتھ ناپ کر ہماری کہکشاں بقیہ کائناتی توسیع کے ہم آہنگ ہو اس معلوم کیا جاسکتا ہے۔

کو موجودہ رفتار کے مقابلہ میں پتے رفتار سے سفر کرنا چاہئے ۔ "

تاہم جو پیمائش کی گئی ہے، ان سے نظم و ضبط میں ہماری کہکشاں کیوں اس طرح استثنائی انداز سے سفر ایک استثناء کا علم ہوتا ہے۔ زمین ، ہمارا شمسی نظام اور کر رہی ہے ، اس کی وجہ ہم نہیں جانتے ۔ اس بنیادی سوال ہماری کہکشاں، جس میں شمسی نظام واقع ہے ، بقیہ کا جواب بھی ابھی تک لامعلوم ہے کہ کائنات کے مادہ اجرام سماوی کے مقابلہ میں ایک ملین میل فی گھنٹہ کی رفتار میں ابتدائی حرکت یا دھماکہ کا آغاز کیوں کر ہوا۔ میں نے سمجھا تھا - - - میں نے سمجھا تھا کہ دلیل میں وزن ہے۔ مگر معلوم ہوا کہ طاقت اپنے اندر اس سے بھی زیادہ وزن رکھتی ہے ۔ میں نے سمجھا تھا کہ کارکردگی سے انسان تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر معلوم ہوا کہ لیاقت کا سب سے بڑا سرٹیفکٹ موقع پرستی ہے۔

میں نے سمجھا تھا کہ عہدے اور مناصب کام کرنے کے مواقع ہیں مگر معلوم ہوا کہ یہ سب محض اعزاز کے لئے حاصل کئے جاتے ہیں۔

میں نے سمجھا تھا کہ لوگ جو کچھ زبان سے کہتے ہیں وہی ان کے دل میں بھی ہوتا ہے مگر معلوم ہوا کہ ان دونوں میں کوئی تعلق نہیں۔

میں نے سمجھا تھا کہ لوگ مقاصد کے علم بردار ہیں مگر معلوم ہوا کہ اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے کے سوا لوگوں کو کسی چیز سے دل چسپی نہیں۔

میں نے سمجھا تھا کہ جو لوگ خدا کی باتیں کرتے ہیں وہ خدا سے ڈرتے بھی ہیں مگر معلوم ہوا کہ خدا ان کے لئے ایک تجارتی عنوان کے سوا اور کچھ نہیں ۔

میں نے سمجھا تھا کہ لوگ اصلاح چاہتے ہیں مگر معلوم ہوا کہ ہر شخص کو اپنا مفاد عزیز ہے خواہ وہ دوسروں کو برباد کر کے ہی کیوں نہ حاصل ہو۔

میں نے سمجھا تھا کہ لوگ خدمت خلق کے لئے سرگرم ہیں مگر معلوم ہوا کہ ساری سرگرمیاں اپنے جاہ اور مفاد کے لئے کی جاتی ہیں۔ میں نے سمجھا تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کا خیر خواہ ہے مگر معلوم ہوا کہ ہر ایک دوسرے کا استحصال کر رہا ہے۔ میں نے سمجھا تھا کہ جنت کا راستہ وسیع اور جہنم کا راستہ تنگ ہے مگر معلوم ہوا کہ سب سے وسیع راستہ وہ ہے جو جہنم کی طرف جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page