Al-Risala · November 1978 · page 11

JAMA MASJID, DELHI.6

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۱

اسلامی نصب العین کا ماخذ : آیت عبادت یا آیت خلافت سوال: آج کل مسلمانوں میں دو قسم کے مذہبی فکر چل رہے ہیں۔ ایک گروہ حکومت پر زور دیتا ہے، دوسرا گروہ عبادت پر۔ اس سلسلے میں آپ کا خیال کیا ہے۔

جواب: ہمارا خیال ہے کہ دونوں قسم کے گروہوں میں جو فرق ہے وہ دین اور بے دینی کا فرق نہیں ہے۔ بلکہ تصور دین یا تعبیر دین کا فرق ہے۔ وہ فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ ایک گروہ اپنے نصب العین کا تصور آیت خلافت سے اخذ کرتا ہے اور دوسرا گروہ آیت عبادت سے۔ ایک کے نزدیک اِنّی جاعل في الأرض خليفة (اللہ نے کہا کہ میں ذہن میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں) وہ قرآنی آیت ہے جس سے اسلام کا نصب العین معلوم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرے کے نزدیک جس آیت سے اسلامی نصب العین اخذ ہوتا ہے وہ یہ آیت ہے:

وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں خلافتى فکر کے مطابق زمین خدا کی سلطنت کا ایک حصہ ہے اور اس حصہ پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب سلطنت مقرر کیا ہے تاکہ وہ اس کے اوپر خدا کے قوانین کا نفاذ کرے ۔ دوسری طرف عبادتی فکر کے سوچنے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا کا عبد (بندہ) ہے۔ اس کے لئے اپنے رب کی رضامندی حاصل کرنے کا راستہ یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کرے، وہ اس کے آگے اپنے آپ کو جھکادے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ خلافتى فکر رکھنے والے عبادت کو نہیں مانتے ۔ یا عبادتی فکر رکھنے والوں کے یہاں خلافت کا کوئی مقام نہیں ہے۔ یہ فرق صرف اس معنی میں ہے کہ کوئی گروہ دینی تعلیمات کے مجموعہ کو کس رخ سے دیکھتا ہے۔ قرآن کو اگر کوئی شخص آیات قتال کے ذریعہ سمجھنا چاہے تو قرآن اس کو کتاب جنگ نظر آ سکتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن کو جو شخص آیات خشیت کی روشنی میں دیکھے، اس کو قرآن کتاب تقویٰ نظر آئے گا۔ ایسا ہی کچھ فرق مذکورہ دونوں گروہوں میں پایا جاتا ہے۔ خلافتى گروہ خلافت سے چل کر عبادت کو لیتا ہے۔ وہ عبادت کی معنویت کو اسی وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ وہ اس کو حکومت و سیاست کے خانہ میں بٹھالے۔ اس کے برعکس دوسرا گروہ عبادت کی نگاہ سے خلافت کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک عبادت بجاے خود مقصود ہے اور بقیہ تمام چیزیں اسی وقت با معنی ہیں جبکہ وہ عبادت کے سرچشمہ سے نکلی ہوں ۔ اس فرق کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ خود خلافت و عبادت کے تصور میں دونوں گروہوں کے درمیان فرق ہو جاتا ہے۔ خلافتى گروہ کے نزدیک حکومت اسلامی کا قیام دین کا مکمل ظہور ہے اور عبادت کی حیثیت یہ ہے کہ وہ حکومت اسلامی کے داعیوں یا کارکنوں کی تربیت و اصلاح کا ذریعہ ہے۔ جب کہ عبادتی گروہ کا زمین یہ ہے کہ اللہ کا حقیقی عبادت گزار بننا ہی مکمل مسلمان اور مکمل دین دار بننا ہے۔ جہاں تک خلافت یا حکومت کا تعلق ہے، اس کی حیثیت ایک دنیوی ذمہ داری کی ہے جو خاص حالات میں مسلمانوں سے مطلوب ہوتی ہے۔ نیز یہ ذمہ داری بھی، بہت سی دوسری شرعی ذمہ داریوں کی طرح، مشروط ذمہ داری ہے اور کبھی عائد ہوتی ہے اور کبھی عائد نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page