JAMA MASJID, DELHI.6
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳
لوگ انسانی عدالت کے بارے میں سنجیدہ ہیں مگر خدا کی عدالت کے بارے میں نہیں ایک صاحب وکیل تھے اور اسی کے ساتھ شاعر بھی۔ وہ دیوانی میں وکالت کرتے تھے۔ ایک مقدمہ میں ان کے فریق مخالف کا نام عبدالباقی تھا۔ بحث کے دوران انھوں نے جج سے کہا: "حضور! ان کا نام عبدالباقی ہے۔ اسی سے یہ ثابت ہے کہ ان کے ذمہ ہمارا باقی ہے"۔ جج نے کہا: "مسٹر وکیل! یہ عدالت کا کمرہ ہے۔ یہ کوئی مصرعہ طرح کا مشاعرہ نہیں ہے"۔ یہ سنتے ہی وکیل صاحب فوراً سنجیدہ ہوگئے اور قانونی انداز میں گفتگو شروع کر دی۔ اس کی وجہ کیا تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وکیل صاحب کو معلوم تھا کہ فیصلہ کا اختیار ان کو نہیں ہے بلکہ عدالت کو ہے اور عدالت جو فیصلہ کرے گی، قانون کی بنیاد پر کرے گی نہ کہ ادبی نکتوں کی بنیاد پر۔
اسی قسم کے واقعات دین کے معاملہ میں بھی پیش آتے ہیں۔ آدمی بطور خود ایک نظریہ گھڑتا ہے یا ایک دینی عقیدہ بناتا ہے اور کہتا ہے کہ یہی اللہ اور رسول کا دین ہے۔ اس کے سامنے قرآن وحدیث کے حقائق لائے جاتے ہیں جو صریح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی بتائی ہوئی صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہے۔ مگر وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ اپنی بے بنیاد بحث کو بدستور جاری رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو یقین نہیں کہ فیصلہ" دوسری عدالت ، میں ہونا ہے نہ کہ اس کی اپنی عدالت میں۔ اگر وہ اللہ کی عدالت کو اسی طرح دیکھنے لگے جس طرح مذکورہ وکیل کو انسانی عدالت کھلی آنکھوں سے دکھائی دے رہی تھی تو وہ فوراً سنجیدہ ہو جائے وہ بحث و جدال میں پڑنے کے بجائے خدائی کتاب اور رسول کی سنت میں غور کرنے لگے اور بالآخر اس حقیقت کو مان لے جس کو موت کے بعد ہر ایک ماننے پر مجبور ہوگا۔ ایسے زندہ انسان ہمارے اندر کیوں نہیں تک اس کے استحکام کا مزید انتظام نہ کر لیا جائے ۔ روسی انجینئر کو اس سے اختلاف تھا ۔ اس کا ہندوستانی انجینئر غیر ضروری تعمیرات اور غیر ضروری خیال تھا کہ ڈرلنگ مشین کو ہم پل پر لے جاسکتے ہیں اور ڈرائیانون پر کروڑوں روپیہ ضائع کرتے ہیں، اس کی مثال اس سے پل کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بحث بڑھی یہاں تک کہ دیتے ہوئے مسٹر کے۔ ڈی۔ مالویہ (سابق وزیر پٹرولیم) نے مسئلہ متعلقہ وزیر تک پہنچا۔ روسی انجینئر نے اپنے نقطہ نظر بتایا کہ مشرقی ہندوستان میں ایک پل پر کام ہو رہا تھا۔ اس کی وکالت کرتے ہوئے وزیر سے کہا: "روس میں میری بیوی دوپرھان ڈرنگ مشین کو پل پر لے جانے کی ضرورت ہوئی ۔ اور بچے ہیں، اور میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ مگر میں اس کے اس وقت موقع پر دو انجینئر تھے۔ ایک روسی اور دوسرا لئے تیار ہوں کہ پل کے نیچے کھڑا ہو جاؤں جب کہ مشین پل ہندوستانی۔ ہندوستانی انجینئر نے کہا کہ ڈرل کرنے کی بھاریہ الا پر چڑھائی جائے "۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے روسی مشین پل کے اوپر لے جائی گئی تو پل ٹوٹ کر گر جائے گا۔ انجینئر نے فی الواقع ایسا کیا اور بے ضرر نیچے نکل آیا۔ اس لئے مشین اس وقت تک پل پر نہ چڑھائی جائے جب کے۔ سی۔ کھنا، مطبوعہ الامریڈ ڈیلی ۲۱ ستمبر ۱۹۷۰ء
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues