Al-Risala · November 1978 · page 15

It was a fair decision.

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵

جو شخص ہار کو مان لے وہی تیاری کر کے دوبارہ اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہوتا ہے ۱۵ فروری ۱۹۷۸ء کو ساری دنیا نے حیرت کے ساتھ یہ خبرسنی کہ باکسنگ کے مشہور چیمپین محمد علی کو ایک غیر معروف کھلاڑی لیون اسپینکس نے ہرا دیا۔ اب محمد علی کے لئے ایک راستہ وہ تھا جو عام طور پر ہارے ہوئے سیاستداں اختیار کرتے ہیں۔ وہ ایک اخبار نکال کر ججوں کی دھاندلی" کا شور مچاتے۔ اپنے پر جوش حامیوں کو لے کر اسپینکس کے خلاف ایجی ٹیشن چلاتے اور اس کو قتل کرنے یا اس پر مقدمہ چلانے کی کوششیں کرتے۔ خود ساختہ طور پر ایک لقب وضع کر کے اپنے نام کے ساتھ لگا لیتے اور سمجھتے کہ وہ اب بھی کھیل کی دنیا کے "امام" ہیں۔ محمد علی اگر اس قسم کا راستہ اختیار کرتے تو اس کے لئے ان کے پاس پیسہ بھی تھا اور اعوان وانصار بھی۔ مگر اس قسم کے تمام طریقوں کو چھوڑ کر انھوں نے محنت ومشقت اور خاموش تیاری کا طریقہ اختیار کیا۔

ہارنے کے بعد پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت، محمد علی نے فروری ۱۹۷۸ء کے تیسرے ہفتہ میں بنگلہ دیش کا پانچ روزہ دورہ کیا۔ ان کو بنگلہ دیش کی اعزازی شہریت دی گئی اور ان کو امریکہ میں بنگلہ دیش کا اعزازی قونصل جنرل بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر ۲۲ فروری کو ڈھاکہ کی ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری نمائندہ نے محمد علی سے پوچھا کہ لیون اسپنکس سے مقابلہ میں بچوں کے فیصلے کو کیا وہ صحیح فیصلہ سمجھتے ہیں۔ محمد علی نے صاف لفظوں میں کہا :

It was a fair decision.

یہ ایک بے لاگ فیصلہ تھا۔ علی نے صاف لفظوں میں اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا:

I misjudged the man (Spinks)

and fought a wrong battle. My planning was not correct be- cause I did not know much about Spinks The Times of India, 23.2.1978 میں نے اپنے حریف کو سمجھنے میں غلطی کی اور اس سے غلط جنگ لڑی۔ میری منصوبہ بندی صحیح نہیں تھی کیوں کہ میں اسپنکس کے بارے میں کچھ زیادہ جانتا نہ تھا۔ محمد علی نے اب اپنی زندگی کا نیا نظام بنایا اور باقاعدہ تیاری میں لگ گئے ۔ وہ دن بھر دوڑتے ، پہاڑیوں پر چڑھتے۔ بھری ہوئی بوری میں گھونسے مار مار کر اپنے ہاتھوں کی تربیت کرتے۔ اپنے ساتھیوں سے آزمائشی مقابلے کرتے ، اور اسی کے ساتھ عبادت کر کے دعا بھی کرتے کہ خدا انھیں اگلے مقابلہ میں کامیاب کرے ۔ محمد علی کی عمر ۳۶ سال ہے اور ان کے حریف لیون اسپنکس کی عمر ۲۵ سال ؛ یعنی دونوں کی عمر میں گیارہ سال کا فرق ہے مبصرین کا خیال تھا کہ محمد علی کی عمران کے لئے فیصلہ کن بن چکی ہے اور اب وہ اپنے نوجوان حریف سے دوبارہ جیت نہیں سکتے ۔ مگر محمد علی نے پورے جوش اور اہتمام کے ساتھ اپنی تیاریاں جاری رکھیں ۔ وہ روزانہ صبح ۵ بجے اٹھ کر تین میل پہاڑی راستہ پر دوڑتے جب کہ ابھی اندھیرا چھایا ہوا ہوتا اور لوگ اپنے نرم بستروں پر سوئے ہوئے ہوتے۔ اس کے بعد سارے دن سخت ترین

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page