ادارہ الرسالہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۶
جس کے یقینا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
اسلامی ممالک کے اندر ایسے اسلامی مراکز قائم کرنا بھی جہاد فی سبیل اللہ میں شامل ہے جو مسلم نوجوانوں کی صحیح تربیت کریں۔ اسلام کے اعتدال پسندانہ نقطہ نظر کے مطابق ان کی رہنمائی کریں، الحاد، فکری انحراف اور عملی بے راہ روی سے انھیں بچائیں اور انھیں اسلام کی حمایت و نصرت اور اس کے دشمنوں سے نبرد آزمائی کے لئے تیار کریں۔
اسی طرح خالص اسلامی پرچہ کا اجراء جو گمراہ صحافت کے درمیان اللہ کا کلمہ بلند کرنے حق بات کا اظہار کرنے، اسلام پر عائد کئے جانے والے جھوٹے الزامات کی تردید کرنے، شبہات کا ازالہ کرنے، اور اسلام کو ہر قسم کی حاشیہ آرائی اور شائبوں سے پاک کرکے صحیح شکل میں پیش کرنے کی خدمت انجام دے۔ بلا شبہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ایسی دینی کتاب کی وسیع پیمانہ پر اشاعت جو بنیادی اہمیت کی حامل ہو اور جو اسلام کو یا اس کے کسی پہلو کو اس خوبی کے ساتھ پیش کرے کہ اس کے پوشیدہ جواہر پر سے پردہ اٹھ جائے۔ اس کی تعلیمات کی خوبیاں نمایاں ہوں اور اس کے حقائق بے نقاب ہوں جہاد فی سبیل اللہ کے مترادف ہے۔
پختہ کار، امانت دار اور مخلص افراد کو فارغ کرنا تاکہ وہ دین کی خدمت کریں، اس کی روشنی چار دانگ عالم میں پھیلائیں، اس کے دشمنوں کی چالوں کو بے اثر کرکے رکھ دیں۔ فرزندانِ اسلام میں بیداری پیدا کریں اور عیسائی مشن، الحاد اور اباحیت کے طوفان کا مقابلہ کریں من جملہ جہاد فی سبیل اللہ کے ہے اور دینِ حق کے داعیوں کی معاونت کرنا جن پرخارج سے اسلام دشمن طاقتیں داخلی عناصر مرتد اور سرکش افراد۔ کی مدد سے مسلط ہو جاتی ہیں اور انہیں طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں دینے لگتی ہیں۔ ان کی معاونت کرنا تاکہ وہ کفر اور سرکشی کے مقابلہ میں ثابت قدم رہیں سراسر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ زکوٰۃ کے صرف میں ایسے کاموں کو اولین اہمیت دیں کیوں کہ اسلام کے مددگار اللہ کے بعد فرزندانِ اسلام ہی ہیں اور خاص طور سے ایسے دور میں جب کہ اسلام غربت سے دوچار ہے۔ فقہ الزکوٰۃ، ترجمہ از مولاناشمس پیرزادہ - ممبئی ☐☐ وہ مسئلہ جو ابھی تک لوگوں کو معلوم نہیں فجر کی نماز سے فارغ ہو کر میں مسجد کی سیڑھیوں سے اتر رہا تھا کہ ایک بزرگ نے کہا "آپ نے دیکھا نہیں اس آدمی کو" اور پھر میرے جواب کا انتظار کئے بغیر بولے "نماز پڑھ رہا تھا اور کہنیاں یہاں تک کھلی ہوئیں۔ شیطان بھی خوش، رحمان بھی خوش، اللہ بچائے ایسے نمازیوں سے" وہ کہہ رہے تھے اور نفرت اور حقارت ان کے لفظ لفظ سے ٹپک رہی تھی۔
میں نے سوچا۔ لوگوں کو کہنیاں کھلنے کا "مسئلہ " معلوم ہے۔ مگر یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ ایک مسلمان کے لئے حرام ہے کہ وہ دوسرے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اس کا ذکر نفرت کے ساتھ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues