Al-Risala · November 1978 · page 25

ادارہ الرسالہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵

علمی جہاد ــــ انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف ہم سے پوچھا گیا ہے کہ کیا زکوٰۃ کی مدد سے ادارۂ الرسالہ کی اعانت کی جاسکتی ہے ۔ جواب ہے کہ یقیناً کی جاسکتی ہے اور یہ اعانت بلاشبہ زکوٰۃ کا اہم ترین مصرف ہوگی۔

قرآن میں زکوٰۃ کے جو مصارف بتائے گئے ہیں، ان میں سے ایک فی سبیل اللہ (توبہ: ۶۰) ہے۔ یعنی اللہ کے راستہ میں دینا۔ اس سلسلے میں فی سبیل اللہ کا مفہوم متعین کرنے کے لئے بہت سی علمی بحثیں کی گئی ہیں ۔ شیخ یوسف القرضاوی (قطر) نے اس موضوع پر اپنی تحقیقی کتاب ” فقہ الزکوٰۃ “ میں مفصل اور مدلل گفتگو کی ہے اور آخر میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد صرف قتال نہیں ہے، نہ شخصی تملیک اس کے لئے ضروری ہے، بلکہ عمومی نوعیت کا تربیتی اور علمی جہاد بھی اس میں دخل ہے۔ اور شاید آج مسلمان اس کے سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، ذیل میں شیخ یوسف القرضاوی کی بحث کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے۔ شیخ موصوف لکھتے ہیں:

موجودہ حالات میں فی سبیل اللہ سے جو اولین اور اہم ترین چیز مراد لی جائے گی وہ ہے صحیح اسلامی زندگی کے احیاء کا وہ پروگرام جو اسلام کے جملہ احکام، عقائد، تصورات، شعائر، شرعی قوانین اور اخلاق و آداب کو بروئے کار لانے کے لئے ہو۔

یہ کام اس قدر اہم اور ضروری ہے کہ سلام کے غیرت مندوں کو اپنی زکوٰۃ کا مال اور اپنی اعانتیں اس پر صرف کرنی چاہئیں۔

ہماری رائے یہ ہے کہ بحالات موجودہ زکوٰۃ کے اس مصرف کو ثقافتی، تربیتی اور علمی جہاد کے لئے استعمال کرنا بہتر ہوگا۔ بشرطیکہ وہ خالص اور صحیح اسلامی جہاد ہو۔ عصر حاضر میں اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے جن سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ اس کی چند مثالیں ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا شمار بجاطور پر فی سبیل اللہ میں کیا جاسکتا ہے۔

صحیح اسلام کو پیش کرنے کے لئے دعوتی مراکز قائم کرنا جن کے ذریعہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں ادیان و مذاہب کی کش مکش کے درمیان غیر مسلمین تک اسلام کا پیغام پہنچایا سورہ توبہ (آیت : ۶۰) میں صدقات کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں، جن میں سے پہلے چار مصارف (فقراء ، مساکین ، عاملین ، مولفۃ القلوب) کے لئے حرف لام استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات " ان کے لئے “، ہیں۔ مگر بعد کے چار مصارف (غلام، قرضدار، سبیل اللہ ، مسافر) کے لئے حرف فی استعمال کیاگیا ہے ۔ یعنی یہ کہا گیا کہ صدقات ان کی مد میں صرف کرنے کے لئے ہیں۔ پہلے چار مستحقین کے لئے لام ہے جو تملیک کا معنی دیتا ہے۔ بقیہ چار مستحقین کے لئے فی ہے جو عربی زبان میں ظرفیت کے لئے آتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ حکم کے الفاظ میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلی چار اصناف کو زکوٰۃ اس طور پر ملتی ہے کہ وہ اس کی مالک ہوجاتی ہیں جبکہ بقیہ چار اصناف کی حیثیت چار مدات کی ہے (فقہ الزکوٰۃ از شیخ یوسف القرضاوی )

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page