بے فائدہ بات نہ کرنا ، کسی کا برا نہ چاہنا
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۱
بدائق الهدیه الی اخی لی الله عز وجل احب زیادہ محبوب ہے۔ اگر میں ایک طبق دانق (پیسے) اپنے اتی من دینار انفقہ فی سبیل اللہ عز وجل بھائی کو ہدیہ کردوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ (حلية الاولیاء جلد ۱) میں ایک طبق دینار فی سبیل اللہ خرچ کروں۔
بے فائدہ بات نہ کرنا ، کسی کا برا نہ چاہنا
زید بن اسلم کہتے ہیں۔ ابو دجانہ ی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے۔ لوگ ان کے پاس آئے۔ وہ بیمار تھے مگر ان کا چہرہ چمک رہا تھا، لوگوں نے پوچھا: کیا بات ہے کہ آپ کا چہرہ اس قدر چمک رہا ہے۔ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
ما من عملی شیئ اوثق عندی من اثنتین۔ اما میرے عمل میں میرے نزدیک دو چیزیں سب سے زیادہ احداهما فكنت لا اتكلم فيما لا يعنيني۔ دامـــا قابل اعتماد ہیں۔ ایک یہ کہ میں بے فائدہ بات نہیں کرتا تھا۔ الاخری فكان قلبي للمسلمين سليما (ابن سعد جلد۴) دوسرے یہ کہ میرا دل مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ صاف رہا۔ اسلام میں نزاکتِ احساس عبداللہ بن عباس کہتے ہیں۔ ایک شخص نے ذبح کی غرض سے ایک بکری کو پہلو کے بل لٹا رکھا تھا اور اپنی چھری تیز کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا:
اتريد ان تميتها موتتين - هلا احددت کیا تم بکری کو دو موت مارنا چاہتے ہو- تم نے اس کو پہلو سفر تلك قبل ان تضجعها (طبرانی، احمد) کے بل لٹانے سے پہلے اپنی چھری کیوں نہ تیز کر لی۔ خادم کی کوتاہیوں پر اس کو معاف کرنا عبداللہ بن عمر رض کہتے ہیں۔ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا: "اے خدا کے رسول! اپنے خادم کو میں روزانہ کتنی بار معاف کروں۔ آپ نے فرمایا : سبعین مرة (ستر بار معاف کرو، ترمذی، ابوداؤد کسی انسان کے ساتھ وحشیانہ سلوک جائز نہیں غزوہ بدر کے بعد جو لوگ گرفتار ہوئے ان میں ایک شخص سہیل بن عمرو تھا۔ یہ قریش کا بہت مشہور خطیب تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت سخت تقریریں کیا کرتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس شخص کے اگلے دو دانت توڑ دوں، تاکہ آئندہ یہ اسلام کے خلاف تقریریں نہ کرسکے۔ آپ نے کہا : لا مثل به فيمثل الله بی وان كنت نبيا میں اس کا چہرہ نہیں بگاڑوں گا ورنہ اللہ میرا بھی چہرہ (من اخلاق النبی) بگاڑ دے گا۔ اگر چہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
اجرت ادا کرنے میں دیر نہ کرو
ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعطوا الاجیر اجره قبل ان يجف عرقه مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے دے دو
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues