Al-Risala · November 1978 · page 32

برائی کرنے والے کے حق میں اچھی دعا کرو

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲

برائی کرنے والے کے حق میں اچھی دعا کرو

ابو ہریرہ ی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا۔ آپ کے حکم سے اس کو کوڑے مارے گئے۔ جب وہ چلا گیا تو کچھ لوگوں نے کہا : اے اللہ! اس شخص کو رسوا کر۔ اے اللہ! اس شخص پر لعنت کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لا تقولوا هكذا ولا تكونوا للشيطان على اس طرح مت کہو اور اپنے بھائی کے خلاف شیطان کا اخيكم۔ ولكن قولوا اللهم اغفر له اللهم ساختی نہ بنو۔ بلکہ اس طرح کہو : اے اللہ اس کو معاف اهدکا (ابن جریر) فرما۔ اے اللہ اس کو ہدایت دے۔

مسلمان کو لعنت کرنا بہت بڑا گناہ ہے

طبرانی نے سلمہ بن اکوع رضی سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم کسی کو دیکھتے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی پر لعنت بھیج رہا ہے تو ہم سمجھتے تھے کہ وہ بڑے گناہوں کے دروازہ میں سے ایک دروازہ میں داخل ہو گیا ہے (كنا اذا رأينا الرجل يلعن اخاه رأينا ان قد اتي بابا من ابواب الكبائر) مومن کو حقیر سمجھنا بے دینی تک لے جا سکتا ہے عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک حج میں تھے۔ آپ نے عرفات سے کوچ کرنے میں اسامہ بن زید رض کی وجہ سے دیر کر دی۔ آپ ان کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک لڑکا آیا جو کالے رنگ اور چپٹی ناک والا تھا۔ اہل یمن جو آپ کے ساتھ تھے، یہ دیکھ کر بولے :

انما حبسنا من اجل هذا (ابن سعد جلد م ) اس کی وجہ سے ہم روکے گئے تھے عروہ رض کہتے ہیں کہ اہل یمن اپنے اسی قول کی وجہ سے کافر ہوئے۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ہارون سے پوچھا عروہ رض کے اس قول کا کیا مطلب تھا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اہل یمن کا مرتد ہونا۔ اولاد کسی آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ہے ہزار نے اسود بن خلف رض سے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رض کو اٹھایا اور ان کا بوسہ لیا۔ پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :

ان الولد مبخلة مجهلة مجبنة لڑکا آدمی کو بخیل بناتا ہے، نادانی کے کام کراتا ہے ، (ہیثمی جلد (۵) بزدل بنا دیتا ہے۔

طبرانی نے عبد اللہ بن عمر سے ایک روایت نقل کی ہے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : قاتل الله الشيطان ان الولد فتنة اللہ شیطان کو ہلاک کرے، بے شک اولاد آدمی کیلئے فتنہ ہے۔ گھریلو معاملات میں گھر کے بڑے کا کردار بیہقی نے حسن بن علی رض سے روایت کیا ہے۔ عمر بن خطاب رض اللہ عنہ نے حضرت علی رض کی صاحبزادی ام کلثوم

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page