دوسروں کو تکلیف دینے سے پر ہیز
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۴
اولہ ولو بشاة (احمد) ولیمہ کرو اگر چہ ایک بکری ہے۔
گھر کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے کم نہیں طبرانی اور بزار نے عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے۔ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے خدا کے رسول ! میں عورتوں کی طرف سے قاصد بن کر آپ کے پاس آئی ہوں۔ ان عورتوں میں سے ہر عورت، خواہ آپ اس کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، آپ کے پاس آکر یہ سوال پوچھنا چاہتی ہے۔ اللہ مردوں کا رب ہے اور عورتوں کا بھی۔ وہ دونوں کا الہ ہے۔ آپ مردوں کے بھی رسول ہیں اور عورتوں کے بھی۔ اللہ نے مردوں کے لئے جہاد رکھا ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں تو اجر پاتے ہیں۔ اور اگر مارے جاتے ہیں تو اللہ کے یہاں زندہ ہو کر رزق حاصل کرتے ہیں۔ پھر ہم عورتوں کے لئے کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :
ان طاعة الززوج واعترافا بحقه يعدل ذلك، شوہر کی فرماں برداری اور اس کے حقوق کا پہچاننا و قليل منك من يفعله (الترغيب والترہیب) تمھارے لئے جہاد کے برابر ہے۔ اگرچہ عورتوں میں بہت کم ہیں جو ایسا کرتی ہوں۔
دوسروں کو تکلیف دینے سے پر ہیز
مالک نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حج کے موقع پر ایک عورت کو دیکھا۔ وہ کوڑھ کی بیماری میں مبتلا تھی اور بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی۔ آپ نے اس سے کہا : يا امة الله لا توذى الناس لو جلست فى بيتك اے اللہ کی بندی لوگوں کو تکلیف نہ دے بہتر ہے کہ تو اپنے گھر میں بیٹھے۔
وہ عورت گھر میں بیٹھ گئی۔ کچھ عرصہ بعد ایک آدمی کا اس مجذومہ عورت پر گزر ہوا۔ اس نے کہا: وہ خلیفہ جنہوں نے تجھ کو طواف سے منع کیا تھا وہ وفات پا گئے۔ اب تو گھر سے نکل ۔ خاتون نے جواب دیا : ما كنت لا طيعه حيا واعصيه ميتا میں ایسی نہیں کہ زندگی میں ان کی اطاعت کروں اور (کنز العمال جلد ۳) مرنے کے بعد ان کی نافرمانی کروں۔
گھر میں داخلہ کے لئے اجازت طلب کرنے کے آداب
طبرانی نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ علی ابن طالب رضی اللہ عنہ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ انھوں نے بہت آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا (د ق الباب دقا خفیفا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے لئے دروازہ کھول دو۔ طبرانی نے ایک اور روایت میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے آئے انھوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور دروازہ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ کنارے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر کچھ دیر میں اندر بلایا اور فرمایا: هل الاستئذ ان الا من اجل النظر (اجازت طلب کرنا دیکھنے سے بچنے ہی کے لئے تو ہے)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues