Al-Risala · November 1978 · page 33

نکاح ۔ دعوت ناموں کی تقسیم کے بغیر

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳

سے نکاح کا پیغام دیا جو آپ سے عمر میں بہت چھوٹی تھیں۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں حسن اور حسین سے کہا کہ اپنے چچا کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کا انتظام کر دو، دونوں نے کہا:

وہ عورتوں میں سے ایک عورت ہے۔ اس کو اپنی ذات کے بارے میں اختیار ہے ۔

کہ کس کی طرف نفسہا (کنز العمال جلد ۸)

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سن کر غصہ ہو گئے اور اٹھ کر جانے لگے۔ حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور کہا: "اے باپ ! آپ کی جدائی کو میں برداشت نہیں کر سکتا۔ " پھر دونوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا۔ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو حقیر نہ سمجھے حسن بن ابی طالب کہتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک جماعت ابو موسی اشعری کے پاس آئی جو خلافت فاروقی میں گورنر کے عہدہ پر تھے۔ ابو موسی اشعری نے عربوں کو عطیے دیئے اور ان کے ساتھ جو عجمی تھے ان کو چھوڑ دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری کو لکھا :

الاسویت بینہم۔ بحسب امری من الشر تم نے دونوں کے درمیان بربری کیوں نہ کی۔ آدمی کے برپا ان يحقر اخاه المسلم (کنز العمال جلد ۲) ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ مسلمان بھائی کو گھبراہٹ میں ڈالنا جائز نہیں طبرانی نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ اس کے پاس ایک سینگ تھی ۔ کچھ لوگوں نے اس کی سینگ لے کر چھپا دی ۔ نماز ختم ہوئی تو اعرابی سینگ نہ پا کر گھبرا گیا۔ اس نے کہا : میری سینگ کیا ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يرو عن جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ہرگز مسلما (ہیثمی جلد ۷) کسی مسلمان کو نہ ڈرائے۔

نکاح ۔ دعوت ناموں کی تقسیم کے بغیر

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ عبد الرحمن بن عوف ہجرت کر کے مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مواخات سعد بن ربیع انصاری سے کرائی۔ سعد نے عبد الرحمن بن عوف سے کہا: اے میرے بھائی ! میں اہل مدینہ میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔ میرے مال کو دیکھ کر تم اس میں سے آدھا مال لے لو۔ میری دو بیویاں ہیں۔ ان میں سے جو تم کو پسند ہو اس کو میں طلاق دے دوں اور تم اس سے نکاح کر لو۔ عبد الرحمن بن عوف نے کہا: اللہ تمہارے اہل اور مال میں برکت دے۔ مجھے تم بازار کا راستہ بتا دو۔ انھوں نے تجارت شروع کر دی اور بہت نفع کمایا۔ کچھ دنوں بعد ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان کے کپڑے پر زعفران کا اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیباکی زبان میں فرمایا مہیم یہ کیا) انھوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا، کتنا مہر مقرر کیا۔ انھوں نے کہا، ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ آپ نے فرمایا :

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page