Al-Risala · November 1978 · page 36

ایسے مسئلہ میں نہ پڑو جس سے نمٹ کی طاقت نہ ہو

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶

ایسے مسئلہ میں نہ پڑو جس سے نمٹ کی طاقت نہ ہو

ضرار نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حجاج نے خطبہ دیا اور ایسی بات کہی جو مجھے ٹھیک معلوم نہ ہوئی (فذ کر کلا ما انکرتہ) میں نے ارادہ کیا کہ میں اس کا رد کروں ۔ مگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول یاد آگیا جس کی وجہ سے میں چپ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا : لا ینبغی للمومن ان یذل نفسہ (مومن کے لئے مناسب نہیں کہ اپنے آپ کو ذلیل کرے) میں نے پوچھا : اے خدا کے رسول ! کوئی مومن کیسے اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا: ایسی چیز سے مقابلہ چھیڑ دے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ (تعرض من البلاء لما لا يطيق)

چھوٹے شر پر راضی نہ ہونے والے کو بڑے شر پر راضی ہونا پڑتا ہے طبرانی نے ابو جعفر خطمی سے نقل کیا ہے۔ ان کے دادا عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: نادانوں کی صحبت سے بچو اور نادانوں کی طرف سے ڈالی ہوئی تکلیفوں کو برداشت کرو۔ کیوں کہ جو شخص نادان کے چھوٹے شرپر راضی نہیں ہوگا اس کو نادان کے زیادہ بڑے شر پرراضی ہونا پڑے گا۔ (ومن لا يرضى بالقليل مما ياتي به السفيه لا يرضى بالكثير)

ٹکراؤ کی حالت ختم کرنے کے لئے ہر قیمت پر صلح کرلی صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب سے کہا : لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ سہیل بن عمرواس وقت قریش کے نمائندہ تھے ، انھوں نے کہا : خدا کی قسم ہم نہیں جانتے کہ " رحمن " کیا ہے ! آپ تو ہمارے معروف طریقہ کے مطابق با سمک اللہم لکھئے۔ مسلمانوں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لکھو : باسمک اللهم ۔ پھر آپ نے کہا: لکھو یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ نے طے کیا ؛ سہیل بن عمرو نے دوبارہ کہا: خدا کی قسم اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو ہرگز نہ روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے۔ مسلمانوں کو یہ بات بھی سخت ناگوار ہوئی۔ مگر آپ نے کاتب کو حکم دیا کہ لکھو : " محمد بن عبداللہ "۔ اس سے پہلے محمد رسول اللہ کا لفظ لکھا جا چکا تھا۔ علی بن ابی طالب نے اس کو اپنے ہاتھ سے مٹانے پر تیار نہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے اس کو مٹایا ۔ پھر آپ نے کہا کہ لکھو: " قریش ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان سے ہٹ جائیں گے تاکہ ہم اس کا طواف کر سکیں ؛ سہیل بن عمر نے کہا: "نہیں۔ اس وقت آپ واپس جائیں اور اگلے سال آکر طواف کریں ؛، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی مان لیا۔ پھر سہیل بن عمر نے یہ شرط کی کہ قریش کا کوئی آدمی مسلمان ہو کر مدینہ جائے تو اس کو مسلمان لوٹا دیں گے۔ اور اگر مدینہ کا کوئی مسلمان قریش کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس کو واپس نہیں کریں گے " ۔ اس پر مسلمان بے حد مشتعل ہو گئے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی مان لیا۔ آپ نے قریش کی تمام شرطوں کو مان کر ان سے دس سال کے لئے ناجنگ معاہدہ کر لیا ۔ (بخاری ومسلم)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page