Al-Risala · November 1978 · page 37

دنیا دے کر آخرت کا سودا کر جاری رکھنا

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۷

اسباب کے قانون سے پیغمبر کی اولاد بھی مستثنیٰ نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی زینب ی اللہ عنہا آپ کی ہجرت کے بعد مکہ میں رہ گئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا کہ وہ حضرت زینب کو مکہ سے مدینہ لے آئیں۔ وہ مکہ گئے اور حضرت زینب کو اونٹ پر بٹھا کر روانہ ہوئے۔ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش کے دو آدمیوں نے ان کا پیچھا کیا اور مکہ سے کچھ فاصلہ پر ان کو پکڑ لیا ، یہ دونوں آدمی زید بن حارثہ رض سے لڑے اور ان پر غالب آگئے۔ پھر ان دونوں نے حضرت زینب کی سواری کو بدکایا۔ وہ اونٹ سے گر پڑیں۔ حضرت زینب کو اس وقت حمل تھا۔ ان کو اسقاط ہو گیا اور خون بہنے لگا۔ اس کے بعد لوگ ان کو ابو سفیان کے مکان پر لے گئے۔ وہاں بنی ہاشم کی عورتیں آئیں اور ابو سفیان نے ان کو ان عورتوں کے حوالے کر دیا۔ کچھ دن کے بعد وہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچیں۔ مگر اس حادثہ نے انہیں مستقل مریض بنا دیا ، حتیٰ کہ اسی میں انتقال ہو گیا (فلم تزل وجعة حتى ماتت من ذلك الوجع ، طبرانی) نازک موقع پر حکیمانہ جواب ہجرت کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ غار ثور میں تین رات رہے۔ اس کے بعد نکلے اور معروف راستہ کو چھوڑ کر سمندر کے کنارے کا راستہ اختیار کیا۔ دونوں دو اونٹوں پر سوار تھے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کبھی آپ کے آگے چلتے اور کبھی آپ کے پیچھے ۔ آپ نے پوچھا " ابو بکر تمھیں کیا ہوا کہ تم کبھی آگے چلتے ہو اور کبھی پیچھے ؟ ، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : " جب مجھے تعاقب کرنے والوں کا خیال ہوتا ہے تو میں آپ کے پیچھے چلنے لگتا ہوں اور جب گھات میں بیٹھنے والوں کو سوچتا ہوں تو آپ کے آگے چلنے لگتا ہوں ، ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے تجارتی تعلقات اور تجارتی سفروں کی وجہ سے لوگوں میں معروف تھے ، راستہ میں کوئی جاننے والا مل جاتا ، جو پوچھتا کہ یہ تمھارے ساتھ کون ہے ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ اس کو مختصر جواب دیتے : ہاد یہدینی (ایک رہبر جو مجھ کو راستہ بتاتا ہے ۔ طبرانی)

دنیا دے کر آخرت کا سودا کر جاری رکھنا

صہیب رومی رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مکہ سے ، ہجرت کی۔ وہ مکہ میں لوہاری کا کام کرتے تھے۔ وہ مکہ سے روانہ ہوئے تو قریش کے کچھ لوگوں نے ان کا پیچھا کیا اور راستہ میں ان کو پکڑلیا۔ انھوں نے کہا : " صہیب ! تم ہمارے یہاں ایسی حالت میں آئے کہ تمھارے پاس کچھ مال نہ تھا۔ اب تم بھی جاؤ گے اور اپنا مال بھی لے جاؤ گے۔ خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ، صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اگر میں اپنا مال تم کو دے دوں تو کیا تم میرا پیچھا چھوڑ دو گے ۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس چند اوقیہ سونا تھا۔ انھوں نے یہ سونا ان کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد وہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ صہیب رومی رض مدینہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ قصہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا :

صہیب کی تجارت کامیاب رہی ، صہیب کی تجارت کامیاب رہی (ربح صہیب ربح صہیب ، تفسیر ابن کثیر جلد اول)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page