Al-Risala · November 1978 · page 39

ناکافی تیاری کے ساتھ اقدام سے پرہیز

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۹

جب بھی دو چیزوں میں سے ایک لینا ہوتا آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے۔ اور اگر وہ گناہ کی بات ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے تھے (ما خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی امرین قطلا اختیار ایسرہا، ما لم یکن اثما۔ فان کان اثما کان البعد الناس، مسلم)

ناکافی تیاری کے ساتھ اقدام سے پرہیز

خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے جہاد کا ارادہ کیا تو صحابہ کو جمع کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ مختلف لوگوں نے اپنی اپنی رائیں دیں۔ خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا ’’اے خلیفہ رسول ! ہم آپ کی مخالفت کرنے والے نہیں ہیں اور نہ آپس میں اختلاف کرنے والے ہیں۔ جب آپ نکلنے کے لئے کہیں گے تو ہم نکل پڑیں گے اور جب حکم دیں گے تو ہم اس کی اطاعت کریں گے! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی باتوں سے خوش ہوئے۔ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ رومیوں سے جہاد کے لئے نکلیں۔ لوگ جمع ہونا شروع ہوئے، یہاں تک کہ بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک روز لشکر گاہ میں آئے۔ آپ کے ہمراہ دوسرے کئی اصحاب تھے۔ جمع ہونے والوں کی تعداد اگر چہ کم نہیں تھی۔ مگر رومیوں سے مقابلہ کے لئے آپ کو وہ کم نظر آئی۔ آپ نے دوبارہ مشورہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس تعداد کو رومیوں سے مقابلہ کے لئے کافی نہیں سمجھتا (ما ارضی هذہ العدة لجموع بنی الاصفر کنز العمال جلد ۳) چنانچہ کوچ کو روک کرین خط لکھا گیا تا کہ ان کی مدد سے تیاری مکمل کی جائے۔ فریق مخالف سے وہی مطالبہ کرنا جو اس کے لئے قابل قبول ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ نجران کی طرف اپنا مکتوب روانہ کیا تو انھوں نے باہم مشورہ کیا اور تین آدمیوں کا وفد مدینہ روانہ کیا تاکہ وہ تحقیق حال کرے۔ یہ شرحبیل بن ودّاعہ، عبد اللہ بن شرحبیل اور جبار بن فیض تھے۔ یہ لوگ مدینہ پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد شرحبیل نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ معاملہ مباحثہ ہے۔ خدا کی قسم اگر یہ شخص واقعی پیغمبر ہے اور ہم اس کی بات کو رد کر دیتے ہیں تو تمام عرب میں ہم پہلے لوگ ہوں گے جو اس کی نظروں میں کھٹکیں گے۔ وہ اور ان کے ساتھی ہم کو کبھی معاف نہ کریں گے۔ دونوں ساتھیوں نے کہا: پھر تمھاری کیا رائے ہے۔ شرحبیل نے کہا: میرا خیال ہے کہ میں ان سے مصالحت کی بات کروں کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک ایسے آدمی ہیں جو کبھی زیادہ بڑی چیز کا حکم نہیں دیتے۔ (اری ان اكلمه فانی اری رجلا لا یحکم شططا ابدا، البدایہ والنہایہ، جلد5، صفحه55)

لوگوں کے ساتھ نرمی اور برداشت کا رویہ اختیار کرو

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی مدینہ آیا اور مسجد نبوی میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کو مارنے کے لئے دوڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع فرمایا اور کہا کہ اسے چھوڑ دو۔ البتہ جہاں اس نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی کا ایک ڈول بہا دو تا کہ صفائی ہو جائے۔ پھر آپ نے فرمایا : تم سختی کے لئے نہیں بھیجے گئے ہو، تم اس لئے بھیجے گئے ہو کہ آسانی پیدا کرو۔ (انما بعثتم ميسرين ولم تُبعَثو معسرين ، بخاری)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page