Al-Risala · November 1978 · page 38

پسپائی میں بھی نئے اقدام کا راز ہوتا ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۸

پسپائی میں بھی نئے اقدام کا راز ہوتا ہے

مؤتہ موجودہ اردن کی ایک بستی ہے۔ اسی مقام پر ۸ھ میں غزوہ مؤتہ واقع ہوا۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد تین ہزار تھی اور رومی فوج میں ایک لاکھ مسلح افراد تھے۔ جنگ ہوئی تو ایک کے بعد ایک تین سردار (زید بن حارثہ، جعفر طیار، عبداللہ بن رواحہ) شہید ہو گئے۔ اس کے بعد خالد بن ولید مسلمانوں کی فوج کے سردار مقرر ہوئے۔ انھوں نے نئی فوجی تدبیر سے حملے کئے اور رومیوں پر رعب طاری کر دیا۔ وہ میدان جنگ سے پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت خالد رضنے اس کے بعد آگے بڑھنا مصلحت کے خلاف سمجھا اور ایک ہزار بھی ہوئی فوج کو لے کر مدینہ واپس آگئے۔ مدینہ میں کچھ مسلمانوں نے ان کی طرف خاک پھینکی اور کہا: یا فرار ! فررتُم فی سبیل اللہ (اے بھاگنے والو! تم اللہ کے راستے سے بھاگے ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: وہ بھاگنے والے نہیں ہیں۔ انشاء اللہ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ (لیسوا بالفرار ولكنهم الكرار انشاء اللہ تعالیٰ، رواہ احمد بن حنبل)

اسلام میں علم کی اہمیت

بدر کی جنگ میں ستر مشرکین گرفتار ہوئے۔ ان میں سے جو لوگ فدیہ نہیں دے سکتے تھے، ان کا فدیہ یہ مقرر کیا گیا کہ وہ انصار میں سے دس آدمیوں کو لکھنا سکھا دیں۔ زید بن ثابت انصاری نے اسی طریقہ پر کتابت سیکھی۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب مقرر ہوئے اور انھوں نے بڑی عمر میں کئی اور زبانیں سیکھیں۔ وہ چھ زبانیں جانتے تھے۔ غصہ کا علاج یہ ہے کہ غصہ کے وقت چپ ہو جائے امام احمد نے عبداللہ بن عباس رض سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وہ چپ ہو جائے۔ آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا (اذا غضب احدكم فليسكت، قالها ثلاثا)

معاملات میں حکمت کا طریقہ اختیار کرنا

فتح مکہ کے موقع پر انصار کے دستہ کے سردار سعد بن عبادہ رض تھے۔ جب وہ مکہ میں داخل ہوئے تو انھوں نے بلند آواز سے کہا: آج گھمسان کا دن ہے۔ آج حرمت حلال کی جائے گی۔ آج اللہ نے قریش کو نیچا کر دیا۔ “ ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ سعد بن عبادہ اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سن کر فرمایا: نہیں، آج کا دن رحمت کا دن ہے۔ آج اللہ قریش کو عزت دے گا۔ آج اللہ کعبہ کو عظمت دے گا۔ بل اليوم يوم المرحمة، اليوم يعز الله قريشاً ويعظم الله الكعبة، (فتح الباری، جلد ۸، صفحہ ۷) اس کے بعد آپ نے سعد بن عبادہ سے انصار کے دستہ کا جھنڈا لے لیا اور اس کو ان کے بیٹے قیس کو دے دیا۔ ابن قیم جوزی لکھتے ہیں کہ سعد بن عبادہ کو کوئی احساس نہیں ہوا ۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ جھنڈا اب بھی انھیں کے لڑکے کے ہاتھ میں ہے (ور أی ان اللواء لم يخرج عن سعد اذ صار الى ابنه زاد المعاد)

دین میں تنگی نہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page