Al-Risala · November 1978 · page 42

آدمی کے مال میں دوسرے کا بھی حق ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲

آدمی کے مال میں دوسرے کا بھی حق ہے

طبرانی نے جعدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا۔ وہ بڑے پیٹ والا تھا۔ آپ نے اپنی انگلی ان کے پیٹ پر رکھی اور فرمایا:

لو کان هذا في غير هذا المكان لكان خيرا یہ کھانا اگر دوسرے کے پیٹ میں ہوتا تو تیرے لئے لك (احمد، طبرانی)

زیادہ بہتر تھا۔

باپ کی ذمہ داریاں

ابو نعیم نے ابو رافع رضہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ) سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: کیف بک یا ابا رافع اذا افتقرت (اے ابو رافع ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم محتاج ہو جاؤ گے) میں نے کہا: کیوں نہ ابھی سے میں اس سے بچنے کی تیاری کروں۔ آپ نے فرمایا ضرور ایسا کرو۔ پھر پوچھا تمہارے پاس کتنا مال ہے۔ میں نے کہا چالیس ہزار۔ اور یہ اللہ عزوجل کے لئے ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ ایک حصہ اللہ کے راستہ میں دو اور ایک حصہ رو کے رکھو۔ اور اس سے اپنی اولاد کی اصلاح کرو۔ میں نے کہا: اے خدا کے رسول کیا اس کا ہمارے اوپر حق ہے جس طرح ہمارا ان کے اوپر حق ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ باپ کا حق اپنے بیٹے پر یہ ہے کہ وہ ان کو کتاب اللہ کی تعلیم دے۔ تیراندازی اور تیرا کی سکھائے: وان يورثه طيبا (حلية الاولياء جلد1) اور ان کو خوشبو (دینی اخلاق) کا وارث بنائے۔

بہت سی شکایتوں کا سبب غلط فہمی ہے

معاویہ رضہ کی خلافت کے زمانہ میں ایک شخص سہل بن سعد رضہ کے پاس آیا اور کہا کہ امیر مدینہ (مروان بن حکم) علی رضہ کو سب وشتم کرتا ہے۔ سہل نے پوچھا وہ کیا کہتا ہے۔ آنے والے نے کہا وہ ان کو ابو تراب کہتا ہے (يقول له ابو تراب) سہل یہ سن کر ہنس پڑے اور بولے: والله ما سماه الا النبی صلی اللہ علیہ وسلم وما كان له اسم احب اليه منه خدا کی قسم اس نام سے تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکارا ہے۔ اور آپ کے نزدیک ان کا اس سے پیار ا نام کوئی نہ تھا۔ (بخاری کتاب المناقب، باب مناقب علی)

مردہ کو برا بھلا کہنے سے پر ہیز

عکرمہ بن ابو جہل کی بیوی ام حکیم بنت الحارث بن ہشام فتح مکہ کے دن اسلام لائیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے شوہر عکرمہ یمن کی طرف بھاگ گئے ہیں۔ انھیں اندیشہ ہے کہ آپ ان کو قتل کرا دیں گے۔ میری درخواست ہے کہ آپ انھیں امن دے دیں۔ آپ نے فرمایا ان کو ہماری طرف سے امن ہے۔ ام حکیم اپنے رومی غلام کو لے کر عکرمہ کی تلاش میں نکلیں۔ عکرمہ اس وقت تہامہ کے ساحل پر پہنچ چکے تھے۔ اور کشتی پر سوار ہو کر سمندر پار چلے جانا چاہتے تھے۔ عین اس وقت ام حکیم وہاں پہنچ گئیں اور کہا کہ میں اس بستی کی جانب سے آ رہی ہوں جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔ تم اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو، انھوں نے بڑی مشکل سے ان کو واپسی کے لئے تیار کر لیا۔ ام حکیم نے کہا: میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues

Printed page