تعلقات میں دوسروں کی عزت کا لحاظ رکھنا
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے لئے امان طلب کر لی ہے۔ عکرمہ نے کہا " تم نے"۔ انھوں نے کہا: ہاں میں نے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا: یا علیکم عکرمہ بن ابی جہل مومنا مہاجرا فلا عکرمہ بن ابو جہل مومن اور مہاجر ہو کر آ رہے ہیں۔ تم لوگ تسبوا ابا ء کان سب المیت یوتھی الحی ولا یبلغ ان کے باپ کو برا نہ کہنا۔ کیوں کہ مردہ کو برا کہنے سے زندہ المیت کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ مردہ کو نہیں پہنچتی۔
تعلقات میں دوسروں کی عزت کا لحاظ رکھنا
ہجرت کا سفر طے کر کے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو لوگوں نے بستی سے باہر نکل کر آپ کا استقبال کیا۔ راستوں میں اور چھتوں پر مردوں اور عورتوں اور بچوں کا ہجوم تھا۔ وہ کہہ رہے تھے اللہ اکبر! اجل ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اللہ اکبر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے)۔ انصار میں آپس میں اس بات پر نزاع ہونے لگی کہ کون آپ کو اپنے یہاں ٹھہرائے۔ مدینہ میں آپ کے ننہالی رشتہ کے لوگ رہتے تھے آپ ان کی خاطر کے لئے اولاً انھیں کے یہاں قیام پسند فرمایا۔ آپ نے کہا۔
انزل الیلیه علی بنی النجار اخوال المطلب اس وقت میں عبد المطلب کے ماموں بنو نجار کے یہاں ٹھرونگا لا كرمهم بذلک (البدایہ والنہایہ ، جلد۳) تاکہ ان کو میرے ٹھہرنے سے عزت حاصل ہو۔
ابو ایوب انصاری (خالد بن زید نجاری خزرجی) جن کے یہاں آپ ابتدائی چند مہینے ٹھہرے اسی خاندان بنو نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ مسجد نبوی اور اس کے گرد حجروں کی تعمیر کے بعد آپ اس میں منتقل ہو گئے۔ شبہ پر رائے شیطان کی رائے ہوتی ہے ام المومنین صفیہ بنت حُی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے۔ رات کو میں آپ سے ملنے گئی میں نے آپ سے باتیں کیں پھر واپس آنے کے لئے اٹھی۔ آپ بھی مجھے رخصت کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں انصار کے دو آدمی ادھر سے گزرے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا تو چاہا کہ تیز چل کر جلدی سے نکل جائیں۔ آپ نے ان کو آواز دے کر فرمایا: " جلدی نہ کرو۔ یہ میری بیوی صفیہ بنت حُی ہیں"۔ وہ دونوں آدمی بولے " سبحان اللہ ! اے خدا کے رسول " آپ نے فرمایا:
ان الشيطان يجرى من ابن آدم مجرى الدم۔ و انی شیطان آدمی کی روں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خشيت ان يقذف في قلوبكما شرا او قال شيئا اندیشہ ہوا کہ شیطان تمھارے دلوں میں میری طرف سے (متفق علیہ) کوئی برا گمان نہ ڈال دے۔
جس نے دنیا میں اپنے کو چھپایا وہ آخرت میں نمایاں ہوگا ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے کہ علی بن ابی طالب نے فرمایا اپنی ذات کو اس طرح چھپادو کہ تمھارا تذکرہ نہ کیا جائے اور خاموشی اختیار کرو، تم سلامت رہو گے (رواہ شخصك لا تذكروا صمت تسلم، كنز العمال جلد ۲ صفحه ۱۵)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues