کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۲
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۲
بسم الله الرحمن الرحيم
عروج و زوال کے تاریخی قانون کو قرآن میں مختصر طور پر اس طرح بیان ا گیا ہے : اللہ کسی گروہ کے مابقوم (حالت قومی) کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے ما بانفس (حالت نفسی) کو نہ بدلے (الانفال ۵۳، رعد ۱۱) ان آیات میں ما بانفس کی تبدیلی سے مراد وہ تبدیلی ہے جو افراد کی سطح پر ہوتی ہے ۔ کیونکہ " نفس " افراد ہی کی سطح پر پایا جاتا ہے نہ کہ اجتماع کی سطح پر ۔ مطلب یہ ہے کہ قوموں کا زوال اس وقت ہوتا ہے جب کہ ان کے افراد میں بگاڑ آگیا ہو ۔ اسی طرح قوموں کا عروج اس وقت ہوتا ہے جب کہ افراد کی سطح پر ان میں زندگی پیدا ہو جائے ۔ اس سنت الہی کے مطابق اصلاح قوم کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو اصلاح افراد سے شروع کیا جائے نہ کہ انقلاب حکومت سے ۔ انقلاب حکومت کے نعرہ سے کام کا آغاز گو یا کسی گروہ کے ما بقوم کو ما بقوم سے بدلنے کی کوشش کرنا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی کوشش ایک ایسی دنیا میں نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی جس کے پیدا کرنے والے نے اس کے ما بقوم کی تبدیلی کو اس کے ما بانفس کی تبدیلی کے ساتھ جوڑ دیا ہو ۔ یہ باغ کو باغ سے نکالنے کی کوشش ہوگی ۔ جب کہ اس دنیا میں باغ کو صرف بیج سے نکالا جاسکتا ہے ۔
" تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کسی نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا " ـــــ یہ قول جس طرح دوسری قوموں کے لئے صحیح ہے ٹھیک اسی طرح وہ ہمارے اوپر بھی صادق آتا ہے ۔ ہماری طویل تاریخ ہر قسم کے سبق آموز واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔ مگر، ہم میں سے کوئی شخص جب کام کرنے کے لئے اٹھتا ہے تو اکثر وہ انہیں ناکام تجربات کو دہراتا ہے جو اس سے پہلے بار بار پیش آچکے ہیں ۔ وہ تاریخ کے قانون کو جانتے ہوئے اپنے آپ کو ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس سے الگ کر لیتا ہے ۔ وہ جانتا ہے جو کچھ مواد ہے صرف دوسروں کے لئے تھا ، ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ تاریخ مسلسل طور پر یہ سبق دیتی رہی ہے کہ کوئی قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب کہ اس کے افراد میں کیرکٹر کی طاقت پیدا ہو جائے ۔ مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم افراد میں کیرکٹر پیدا کئے بغیر ترقی کی طرف چھلانگ لگا دیتے ہیں ۔ ساری تاریخ کا فیصلہ ہے کہ قوموں کی سربلندی کا راز ابتدائی سطح پر تعمیر و استحکام ہے۔ مگر لوگ موقع ملتے ہی سیاسی ادارہ سے مقابلہ آرائی شروع کر دیتے ہیں ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ افراد قوم کے درمیان باہمی اتحاد، خواہ جس قیمت پر بھی ہو، باقی رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ مگر معمولی معمولی باتوں پر لوگ ایک دوسرے کے خلاف محاذ بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کہتی ہے کہ حقیقت پسندی کی کسی بھی کامیابی تک پہنچنے کا واحد زمینہ ہے۔ مگر ہمارے رہنما نہایت بے دردی کے ساتھ قوم کو جذباتی ہنگاموں میں مشغول کر دیتے ہیں۔ ملت کو اٹھانے کا کوئی منصوبہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ ملت کے افراد کھٹایا جا چکا ہو۔ ملت کی ترقی کے لئے ایسے افراد درکار ہیں جو بولنے سے زیادہ چپ رہنا جانتے ہوں، جو الفاظ سے زیادہ معانی کی زبان سمجھتے ہوں، جو طاقت سے زیادہ دلیل کے آگے جھکنے والے ہوں۔ جو کہنے سے زیادہ کرنا جانتے ہوں۔ جو آگے بڑھنے سے زیادہ پیچھے ہٹنے کے بہادر ہوں۔ خلاصہ یہ کہ جو دنیا سے زیادہ آخرت کو دیکھ رہے ہوں ۔ ایسے افراد کے بغیر ملت کی سربلندی کا نعرہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے دلدل کے اوپر دیوار کھڑی کرنا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues