خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۳
خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا
حضرت موسیٰ علیہ السلام (۱۰۳۰۰۔ ۱۵۲۰ ق م) کی آمد سے ساڑھے تین ہزار برس پہلے یہ واقعہ ہوا کہ فلسطین اور شام کے علاقے کے کچھ عرب، جن کو "عمالیق" کہا جاتا تھا، مصر میں داخل ہوئے اور وہاں کے مقامی حکمرانوں کے آپس کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر مصر کی سلطنت پر قابض ہو گئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام (۱۷۹۶۔ ۱۹۰۴ ق م) جب نوجوانی کی عمر میں فلسطین سے مصر پہنچے تو اس وقت مصر پر ان کے انھیں ہم قوموں کی حکومت تھی ۔ ایک عورت کی پیدا کردہ بعض ابتدائی مشکلات کے بعد آپ کو مصر میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ آپ ایک شان دار شخصیت کے مالک تھے اور آپ کے اندر غیر معمولی انتظامی صلاحیت تھی۔ مصری حکمرانوں کو نسلی قربت کی وجہ سے آپ کی صلاحیتوں کے اعتراف میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ آپ کے زمانہ کے عرب بادشاہ ایوفیس نے آپ کے دین کو قبول نہ کرتے ہوئے بھی حکومت کا تمام کاروبار آپ کے سپرد کر دیا۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے اپنے والد حضرت یعقوب (اسرائیل) اور دیگر اہل خاندان کو مصر بلا لیا۔ یہ لوگ تقریباً چار سو سال تک مصر کی حکومت پر چھائے رہے۔ مصر کے آصفی حکمران اگرچہ اب بھی مشرک عمالیق تھے مگر حکومت پر عملاً بنی اسرائیل ہی کا قبضہ تھا۔
بنی اسرائیل ابتدا جب مصر آئے تو ان کو یہاں کی انتہائی زرخیز زمینوں میں بسایا گیا اور حکومت کے اعلیٰ ترین مناصب ان کے لئے مخصوص رہے۔ مگر یہ اکثریت کے اوپر اقلیت کی حکومت تھی۔ بائبل کے مطابق یعقوب (اسرائیل) کا گھرانا جو ملک مصر منتقل ہوا، ان کی تعداد حضرت یوسف کو ملا کر ۷۰ تھی ۔ توالد و تناسل نیز تبلیغ کے ذریعے دورِ قدیم کے ان ”مسلمانوں“ کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ پانچ سو برس بعد جب حضرت موسیٰ نے مردم شماری کرائی تو صرف ان کے مردوں کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اگر چہ اس زمانے کی مصری آبادی کے قطعی اعداد و شمار معلوم نہیں ہیں، تاہم تخمینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصر کی اس زمانے کی آبادی میں بنی اسرائیل کی تعداد تقریباً ۱ فی صد ہوگی۔ حضرت یوسف نے ۱۱۰ سال کی عمر پائی ۔ آپ کے تین چار سو سال بعد مصر میں عرب حکمرانوں کے خلاف ردِ عمل ہوا لمبے خون خرابے کے بعد بالآخر قبطی غالب آئے ۔ "بیرونی حکمرانوں کو تخت سے بے دخل کر دیا گیا اور مصر پر ایک قبطی خاندان کی حکومت قائم ہو گئی جس کے حکمرانوں نے "فرعون" کا لقب اختیار کیا۔
قبطی حکومت کے قیام کے بعد اگر چہ ڈھائی لاکھ عربوں کو مصر سے نکال دیا گیا تھا ۔ تاہم بنی اسرائیل اب بھی وہاں رکھے گئے تاکہ نئے حکمرانوں کے لئے بیگار کا کام دے سکیں۔ بائبل کے الفاظ میں: "مصریوں نے خدمت کروانے میں بنی اسرائیل پر سختی کی اور انھوں نے سخت محنت سے گارا اور اینٹ کا کام اور سب خدمت کھیت کی کروا کے ان کی زندگی تلخ کی۔ اور ان کی ساری خدمت جو وہ ان سے کراتے تھے مشقت کی تھیں" خروج ۱:
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues