خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۴
حضرت موسی تشریف لائے تو بنی اسرائیل اسی دور مشقت سے گزر رہے تھے۔ آپ نے قبطی فرعونی تہذیب کے مقابلہ میں مغلوب حیثیت اختیار کرنے کے بجانے لگا خود ان کے اوپر اقدام کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے دعوت دینی شروع کی کہ دین خداوندی کو اختیار کرو، ورنہ تم سب کے سب تباہ کر دیئے جاؤ گے۔ یہ چیز فرعون کے غصہ میں صرف اضافہ کر سکتی تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے لئے مصر کی زندگی آپ کے آنے کے بعد تلخ تر ہوگئی۔ حتی کہ اس میں مزید یہ اضافہ ہوا کہ شاہی حکم کے تحت بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے بیٹوں کو قتل کیا جائے تاکہ ان کی نسل دھیرے دھیرے مصر سے ختم ہو جائے۔ قدیم مصری آثار کی کھدائی کے دوران ۱۸۹۶ء میں ایک کتبہ ملا ہے جس میں حضرت موسیٰ کے زمانے کا فرعون منفتاح فخر کے ساتھ کہتا ہے " اور اسرائیل کو مٹا دیا گیا، اس کا بیج تک باقی نہیں" اس وقت بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے شکایت کی: " آپ کے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جا رہے تھے اور اب آپ کے آنے کے بعد بھی ستائے جا رہے ہیں" (اعراف ۔ ۱۲۹)
اس انتہائی نازک مرحلہ میں بنی اسرائیل کو جو جواب دیا گیا ، وہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہے : وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا اور ہم نے موسی اور اس کے بھائی کو وحی کی کہ تم دونوں بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا اپنی قوم کو مصر میں ٹھہراؤ اور اپنے گھروں کو مرکز عمل الصَّلَوَةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ۔ یونس ۔ ۸۷ بنا لو اور نماز قائم کرو اور مومنین کو بشارت دے دو اس آیت میں جو پروگرام دیا گیا ہے ، اس کو حسب ذیل طریقے پر بیان کیا جا سکتا ہے ۔
۱۔ جہاں ہو ، وہاں جمے رہو۔ اپنے اندر خوف وانتشار کو جگہ مت دو۔ یہ وہی چیز ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں کہا تھا : جب تک عالم بالا سے تم کو قوت کا لباس نہ ملے اس شہر میں ٹھہرے رہو (لوقا ۲۴ : ۴۹) ۲۔ اپنے گھر کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لو ، یعنی باہمی اتحاد، اندرونی استحکام ، آپس کے صبر و نصیحت اور ذاتی ذرائع پر انحصار ، یہ وہ چیزیں ہیں جن پر تمہیں موجودہ حالت میں اپنی تو جہات کو مرکوز رکھنا چاہئے۔ ۳۔ نماز قائم کرو ۔ یعنی اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرو ، اس کی یاد، اس سے مانگنا ، اس کے آگے اپنے آپ کو بالکل جھکا دینا ، ان صفات کو زیادہ سے زیادہ اپنے اندر پیدا کرو۔
۴۔ یہی وہ طریق عمل ہے جس میں تمھارے لئے دنیا و آخرت کی تمام خوش خبریاں چھپی ہوئی ہیں۔ پوری یکسوئی کے ساتھ ان کی تکمیل میں لگ جاؤ۔ اس سه نکاتی پروگرام کو مختصر طور پر اس طرح کہہ سکتے ہیں ________ استقامت داخلی تعمیر تعلق باللہ۔ اس پروگرام پر عمل کرنے کا بالاخر جو نتیجہ نکلا ، وہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہے : اور جو لوگ کمزور کر دیئے گئے تھے ، ہم نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا مالک بنا دیا جس میں ہم نے برکت دی ہے۔ اور تمھارے رب کا بہترین کلمہ بنی اسرائیل کے لئے پورا ہو کر رہا ۔ اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو اس کی صنعتوں اور اس کے فارموں کے ساتھ مٹا کر رکھ دیا۔ اعراف -۱۳۷ له تبوء الْقَوْمِ كما بمص بیوتا کا ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب نے ان الفاظ میں کیا ہے : ساکن کنید قوم خود را به شهر مصر در خا نهایا قبلہ کا لفظ قبل کا اسم قبیل کا اسمعِ نوعاً ہے۔ اس کا اصل مفہوم ہے " مرکز توجہ " ۔ کہتے ہیں قبلت الماشية الوادی: جانور وادی کی طرف متوجہ ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues