خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۶
رد کر رہا ہے ، اس کو باہر کے لوگ آ کر اپنا رہا ہے ۔ مبش کے یہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھے تو ابو جہل اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر ان سے راستہ میں ملا ۔ اس نے ان لوگوں کو ملامت کرتے ہوئے کہا: " ہمارا خیال ہے کہ تم سے زیادہ احمق قافلہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ تمھارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لیے یہاں بھیجا تھا کہ تم اس شخص کے حالات کی تحقیق کرو اور واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو بتاؤ۔ مگر ابھی تم اس سے ملے ہی تھے کہ اپنے دین کو چھوڑ بیٹھے۔ "
جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے یہ بنی اسرائیل کے علماء تھے ( شعراء ۔ ۱۹۷) انھوں نے ابو جہل وغیرہ سے کوئی بحث نہیں کی۔ بلکہ صرف یہ جواب دیا : " سلام ہے بھائیو تم کو ، ہم تمھارے ساتھ جہالت نہیں کر سکتے ۔ ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو۔ ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے " (ابن ہشام) انھیں لوگوں کے بارے میں قرآن میں آیا ہے :
" جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور جب یہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں : ہم اس پر ایمان لائے ، یہ بلا شبہ خدا کی طرف سے ہے۔ ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے تھے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دہرا اجر دیا جائے گا ، ان کے صبر کے بدلے ۔ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انھیں دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ انھوں نے جب لغو بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے الگ ہو گئے : ہمارے اعمال ہمارے ساتھ اور تمھارے اعمال تمھارے ساتھ ، تم کو سلام ہے ، ہم جاہلوں کا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے " قصص ۵۵ - ناموافق حالات میں موافق امکان کن لوگوں کے لئے ہے، یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ صبر یہ ہے کہ ردعمل کی نفسیات کے تحت اقدام کرنے سے پرہیز کیا جائے اور جو فیصلہ کیا جائے غیر متاثر ذہن سے سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ ایسا انسان اپنی رفتارِ سفر کو خدا کی رفتار سے ہم آہنگ کر دیتا ہے۔ اس کو ان خدائی بخششوں میں حصہ ملنے لگتا ہے جو جلد بازی سے بچنے والوں کے لئے مقدر ہیں ۔
ایک درخت کاٹ دیا جائے تو ظاہر میں کے لئے گویا درخت ختم ہو گیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس کی باقی ماندہ جڑوں سے نئی پتیاں نکل رہی ہیں۔ حتیٰ کہ انتظار کو طویل کیا جاسکے تو دیکھنے والا دیکھے گا کہ جہاں درخت بظاہر "ختم" ہو گیا تھا وہاں دوبارہ ایک نیا درخت کھڑا ہو گیا ہے۔ خدا کا یہی معاملہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے۔ ہر بار جب کسی قوم یا شخص کے لئے ایک امکان ختم ہوتا ہے تو قانونِ قدرت کے تحت ایک دوسرے امکان کی کونپلیں اس کے لئے نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مگر جلد باز انسان صبر نہیں کرتا۔ وہ فوری نتیجہ حاصل کرنے کے شوق میں ایک الٹ ٹپ چھلانگ لگا دیتا ہے۔ اس کی جلد بازی اس کو موقع نہیں دیتی کہ وہ نئے ابھرنے والے امکانات کو دیکھ سکے اور ان کے مطابق اپنے اگلے عمل کی منصوبہ بندی کرے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک کے بعد ایک لاحاصل اقدامات میں اپنی قوتوں کو ضائع کرتا رہتا ہے اور اس کی نوبت ہی نہیں آتی کہ وہ اس "دوسرے" دروازہ میں داخل ہو سکے جو پہلا "دروازہ بند ہونے کے بعد اس کے رب نے اس کے لئے کھولا تھا۔ صبر سب سے بڑا دین ہے،گریت کم ہیں جو اس پہلو سے دیندار بننے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں
CS CamScanner
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues