Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 7

جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۷

جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا

قدیم عرب کے شمال اور جنوب کے زرخیز حصے اس زمانے کی دو بڑی شہنشاہیتوں ساسانی سلطنت اور اور باز نطینی سلطنت کے قبضہ میں تھے۔ شمال میں عمارت غسانہ اور امارت بُصری تھی۔ یہ دونوں باز نطینی سلطنت (رومیوں) کے ماتحت تھیں اور یہاں ان کی طرف سے عرب سردار حکومت کرتے تھے۔ رومی اثرات کے تحت یہاں کی اکثر آبادی مسیحی مذہب اختیار کر چکی تھی، عرب کے جنوب میں امارت بحرین، امارت عمان، امارت یمامہ تھی۔ یہ ریاستیں ساسانی سلطنت (ایرانیوں) کے ماتحت تھیں اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں میں مجوسیت پھیلی ہوئی تھی۔ ۶ھ میں جب حدیبیہ میں قریش سے دس سال کا جنگ معاہدہ ہو اور حالات پر امن ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے اطراف میں واقع سلطنتوں کو دعوتی مراسلے بھیجنے شروع کئے۔ اس سلسلے میں ایک مراسلہ حارث بن ابی شمر غسانی کے نام تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر شجاع بن وہب آپ کا مراسلہ لے کر اس کے پاس گئے۔ اس مراسلہ میں یہ بھی تھا کہ اللہ پر ایمان لاؤ تمہاری حکومت باقی رہے گی (ربق ملک) اس نے مکتوب نبوی میں یہ جملہ پڑھا تو اس کو غصہ آگیا۔ اس نے خط کو زمین پر پھینک دیا اور کہا: میری حکومت مجھ سے کون چھین سکتا ہے (من ینزع ملکی منی) حاکم تبری شرحبیل بن عمر وغسانی نے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سلوک کیا۔ اس رومی گورنر کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حارث بن عمیر ازدی آپ کا خط لے کر گئے تھے، وہ سرحد شام پر قصبہ موتہ میں داخل ہوئے تھے کہ حاکم بصری کے اشارہ پر ایک اعرابی نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا۔

بین اقوامی روایات کے مطابق یہ واقعہ ایک ملک پر دوسرے ملک کی جارحیت کے ہم معنی تھا۔ مختلف قرائن یہ بھی ظاہر کر رہے تھے کہ شام کی فوجیں پیش قدمی کرکے مدینہ میں داخل ہو جانا چاہتی ہیں۔ رومی شہنشاہیت اس کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ عرب میں کوئی آزاد حکومت قائم ہوا اور ترقی کرے ۔

حارث بن عمیر کے قتل کی خبر مدینہ پہنچی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فوجی جواب دینا ضروری سمجھا۔ آپ نے حکم دیا کہ مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر موضع حرتی میں جمع ہو جائیں۔ چنانچہ تین ہزار کی تعداد میں اسلامی لشکر اکٹھا ہو گیا۔ آپ نے اس لشکر پر زید بن حارثہ کو سردار مقرر کیا اور ضروری نصیحتیں کرنے کے بعد ان کو شام کی طرف روانہ کیا۔ اسلامی لشکر نے معان شام پہنچ کر قیام کیا۔ دوسری طرف حاکم بصری بھی جنگ کے لئے تیار ہو گیا۔ اس کی حوصلہ افزائی اس واقعہ سے بھی ہوئی کہ اتفاق سے ہر قل انھیں دنوں مآب (بلقاء) میں آیا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک لاکھ مسلح فوج تھی۔ نیز اس علاقے کے عیسائی قبائل لخم، جذام، قین، بھراء، بلی بھی سمی حمیت کے جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور بنی بلی کے سردار مالک بن زافلہ کی قیادت میں لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ اس طرح شامی محاذ پر ایک لاکھ سے بھی زیادہ کا لشکر جمع ہو گیا جبکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔

یہ جنگ جو جمادی الاولیٰ ۸ ھ میں ہوئی، اس میں زید بن حارثہ دشمنوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ اس کے بعد

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page