جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰
یہ کامیابی محض پر جوش اقدام کا نتیجہ نہ تھی بلکہ سوچے سمجھے منصوبہ کے ذریعہ حاصل کی گئی بحر ظلمات میں دوڑادیئے گھوڑے ہم نے اس طرح کے الفاظ نے مسلمانوں میں نا عاقبت اندیشانہ اقدام کا ذہن پیدا کیا ہے۔ حالاں کہ خود اس شعر میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے وہ ایک سوچی سمجھی پیشگی قدمی تھی نہ کہ محض ایک پر جوش چھلانگ۔ ۶۳۵ھ میں اسلامی فوج سعد بن وقاص کی قیادت میں عراق کے علاقوں کو فتح کر رہی تھی۔ بہرہ شیر کو فتح کر کے جب وہ آگے بڑھی تو سامنے دریائے دجلہ تھا اور اس کے دوسری طرف مدائن جو ایرانیوں کا ایک اہم شہر تھا اور وہاں انھوں نے زبردست قلعہ بنا رکھا تھا۔ ایرانیوں نے بہرہ شیر سے بھاگتے ہوئے دجلہ کے پل کو توڑ دیا تھا اور دور تک کوئی کشتی بھی نہ چھوڑی تھی جس سے اسلامی لشکر دریا کو عبور کرسکے۔
سعد بن ابی وقاص اگلے دن اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور یہ کہہ کر گھوڑا دریا میں ڈال دیا:
نستعین باللہ ونتوکل علیہ حسبنا اللہ ونعم الوکیل ولا حول ولا قوة الا بالله العظیم ہم اللہ سے مدد چاہتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔ عظیم و برتر خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں ۔
آپ کو دیکھ کر دوسروں کو بھی جرات ہوئی اور پورا لشکر اپنے گھوڑوں کے ساتھ دریا میں تیرنے لگا۔ یہ لوگ نصف سے زیادہ دریا پار کر چکے تھے کہ ایرانی تیر اندازوں نے تیروں کی بارش شروع کر دی جو دریا کے دوسرے کنارے پہلے سے موجود تھے۔ دریا میں تیرتا ہوا لشکر اس ناگہانی آفت کا خود مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ پھر کیا چیز تھی جس نے فوج کو برباد ہونے سے بچایا۔ یہ کوئی اتفاق نہ تھا اور نہ محض جوش کا کرشمہ تھا۔ یہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی، جو کچھ ہوا، وہ عین اس نقشہ کے مطابق ہوا جو پہلے سے طے کر لیا گیا تھا۔
صورت حال پیش آنے کے بعد سعد بن وقاص نے باقاعدہ مشورہ کیا۔ سعد بن وقاص جہاں نصرت الہی پر یقین کرتے ہوئے دریا میں کود پڑے، وہیں انھوں نے حالات کا مکمل جائزہ لے کر اس آنے والی آفت کا بھی پیش اندازہ کر لیا تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب انھوں نے گھوڑا دریا میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو لشکر یوں سے فرمایا کہ تم میں کون ایسا بہادر سردار ہے جو اپنی جمعیت کے ساتھ اس بات کا وعدہ کرے کہ وہ ہم کو دریا عبور کرنے کے وقت دشمن کے امکانی حملہ سے بچائے گا۔ عاصم بن عمرو نے اس کی ذمہ داری لی اور چھ سو تیر اندازوں کی ایک جماعت لے کر دجلہ کے اس کنارے ایک اونچے مقام پر کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی ایرانی تیر اندازوں نے دجلہ میں تیرتے ہوئے اسلامی لشکر پر تیر پھینکنے شروع کئے، عاصم بن عمرو کا دستہ فوراً متحرک ہو گیا۔ اس نے ایرانی تیر اندازوں پر اتنی قوت کے ساتھ مسلسل تیر برسائے کہ انھیں دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا۔ کثرت سے ایرانی مجروح اور ہلاک ہونے لگے حتیٰ کہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس درمیان میں اسلامی لشکر دریا پار کر کے دوسرے کنارے پہنچ گیا اور ایرانی لشکر پر سخت حملہ کر کے مدائن پر قبضہ کر لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues