جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۹
نسبتاً آسانی کی ساتھ وہ مغلوب کرلیے گئے۔
اس واقعہ میں اور بہت بڑی حکمت شامل تھی، عرب قبائل ہمیشہ سے آپس میں لڑتے چلے آرہے تھے شدید اندیشہ تھا کہ اپنی قوتوں کی اظہار کا دوسرا میدان نہ پاکر وہ دوبارہ آپس میں لڑنے لگیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت عرب طاقت کو رومی شہنشاہیت سے متصادم کر کے اس کا جواب فراہم کر د۔ اب عربوں کے جنگجو فطرت کے لیے ایک بہترین میدان مل چکا تھا۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ وہ لوگ جو اپنے ہم وطنوں کے قتل وغارتگری کے سوا کچھ نہ جانتے تھے انھوں نے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک پوری دنیا کو فتح کر ڈالا۔ جان بیگٹ گلب پاشانے اپنی کتاب دی لائف اینڈ ٹائمز آف محمد میں اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: «عرب نامعلوم زمانے سے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ و جدل میں زندگی بسر کرنے کے عادی رہے تھے۔ یہ جنگ و جدل کسی خاص سبب کا نتیجہ تھی۔ ہوتی تھی بلکہ یہ ان کی طرز زندگی میں داخل نہیں ۔ اب جبکہ وہ بحیثیت مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے سے بڑھنے سے روک دیے گئے تھے یہ کیسے ممکن تھا کہ فوجی ذہنیت کے قبائلی آدمیوں کو ہمیشہ کے لیے پرامن زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جائے ؟ پیغمبر اسلام نے خود اس مہم کو روانہ کر کے جس نے موت میں شکست کھائی تھی اس سوال کا حل پیش کر دیا تھا۔
۶۳۷ء کے سرما میں تین عرب کالموں نے فلسطین اور شام پر حملہ کر دیا یا اسی اثناء میں مشرقی عرب کے قبیلوں نے جو حیرہ کی لکھی ریاست کی ضبطی کے بعد سے ایران کے دشمن بنے ہوئے تھے، فرات کی طرف پیش قدمی کر کے حیرہ پر قبضہ کر لیا۔ ۲۴ اگست ۶۳۶ء کو بازنطینی رومی قوت نے یرموک کے میدان میں مکمل شکست کھائی اور شام کا تمام علاقہ طبر یہ تک عربوں کے قبضہ میں آگیا۔ فروری، ۶۳۴ء میں ایرانی فوج قادسیہ کے مقام پر جو حیرہ سے چند میل کے فاصلہ پر تھا مکمل طور پر تباہ کر دی گئی اور قدیم عراق بشمول ایرانی دارالسلطنت مدائن جو دجلہ کے جنوب میں موجودہ بغداد کے قریب واقع تھا، عربوں کے زیر تسلط آگیا۔ ۶۴۰ء میں مصر پر حملہ ہوا اور ایک بار پھر بازنطینی حکومت شکست یاب ہوئی اور ستمبر ۶۴۲ء تک پورے مصر پر عرب قبضہ مکمل ہوگیا۔ اسی سال کچی بھی ایرانی فوج نہاوند کے مقام پر تباہ کر دی گئی اور ایرانی سلطنت کا پورے طور پر خاتمہ ہوگیا۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد پہلے خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ نے، انتہائی نازک حالات کے باوجود حضرت اسامہ کے لشکر کو رومیوں کی طرف بھیجا۔ یہ مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک عظیم سبق تھا: مسلمانوں کیلیے طاقت آزمائی کا میدان خارجی دنیا ہے نہ کہ داخلی دنیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ اہم ترین سبق بعد کے زمانہ میں مسلمان بھول گئے ۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ میں تو یہ حال ہے کہ مسلم ممالک دو گروہوں (ترقی پسند اور قدامت پسند میں بٹ کر ایک ایک دوسرے کے حریف بنے ہوئے ہیں۔ ان کی مسلح فوجیں اپنے ہی ملکوں کو فتح کرنے میں مشغول ہیں، مسلم جماعتیں خود اپنے ملکوں کی حکومتوں سے نبرد آزما ہیں۔ باہر کے حریفوں سے مقابلے کے لیے ہر ایک عاجز ہے اور اپنے بھائیوں سے لڑنے کے لیے ہر ایک بہادر بنا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اگر اسلام کی توسیع و اشاعت کا کام رک جائے تو اس پر تعجب نہ کرنا چاہئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues