جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲
امام حسن کے پرجوش حامیوں کے لیے یہ ”ذلت“ ناقابلِ برداشت تھی۔ انھوں نے اس فیصلے کے خلاف بہت شور و غل کیا۔ آپ کو مارا، مسلمین (مسلمانوں کے لیے ننگ) کا خطاب دیا کہا کہ آپ کا فر ہو گئے ہیں۔ آپ کے کپڑے نوچے، حتیٰ کہ آپ پر تلوار سے حملہ کیا۔ مگر آپ کسی بھی حال میں مقابلہ آرائی کی سیاست اختیار کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے ۔ بلکہ فرمایا : "خلافت اگر معاویہ بن ابوسفیان کا حق تھا تو ان کو پہنچ گیا۔ اور اگر یہ میرا حق تھا تو میں نے ان کو بخش دیا۔ " ایک شخص کے پیچھے ہٹ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف باہمی اجتماعیت میں تبدیل ہو گیا اور سلسلہ جو اسلامی تاریخ میں ، صفین و جمل کے بعد تیسری سب سے بڑی باہمی خوں ریزی کا عنوان بنتا، عام الجماعت کے نام سے پکارا گیا ۔ وہ اختلاف کے بجائے اتحاد کا سال بن گیا۔ مسلمانوں کی قوت جو آپس کی لڑائیوں میں برباد ہوتی ، اسلام کی اشاعت و توسیع میں صرف ہونے لگی ۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی پیچھے ہٹنے ہی کا نام آگے بڑھنا ہوتا ہے اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔ حضرت حسن کا یہ عملی کسی قسم کی پسپائی یا فرار نہ تھا۔ یہ انتہائی مدلل سیاست تھی اور عین وہی چیز تھی جس کا نمونہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی سے قائم فرمایا ہے۔
اجتماعی زندگی کا معاملہ انتہائی نازک معاملہ ہے۔ اگر کوئی شخص صرف اقدام اور مقابلہ کی اصطلاحوں میں سوچنا جانتا ہو تو وہ کبھی اجتماعی اصلاح کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اجتماعی زندگی مختلف الخیال قوتوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس میں ناقابل قیاس حد تک مختلف صورتیں پیش آتی رہتی ہیں۔ اس لیے اجتماعی زندگی میں طریق عمل کا کوئی ایک معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ ان طاقتوں کو سمجھا جائے جو بالمقابل محاذ میں مصروف کار ہیں اور اپنی اور دوسروں کی حقیقی صورت حال کا موازنہ کر کے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ یہ کام بیک وقت نہایت گہری نگاہ کا طالب ہے اور اسی کے ساتھ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ذہن کا بھی۔ اجتماعی مقابلہ میں کبھی اپنے آپ کو مکمل طور پر نظریاتی تبلیغ کے دائرہ میں محدود رکھنا پڑتا ہے۔ اس کی مثال مکہ کے ابتدائی بارہ سال ہیں۔ کبھی حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ فریق مخالف کے چیلنج کو میدان جنگ میں قبول کیا جائے ۔ اس کی مثال غزوہ بدر ہے۔ کبھی دور رس نتائج کو پانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ فریق ثانی سے براہ راست تصادم کرنے سے بچا جائے خواہ اس کی قیمت یہی کیوں نہ ہو کہ فریق ثانی کے ایک طرفہ مطالبات مان لینے پڑیں ۔ اس کی ایک مثال معاہدہ حدیبیہ ہے۔ اسلام کی اصطلاح میں یہ سیاست کا صبر ہے۔ جو شخص سیاست میں صابرانہ طریق کار کا جوتہ نہ رکھتا ہو اس سے اسلام کا کم سے کم مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سیاست کے میدان میں داخل نہ کرے ۔
کامیاب اقدام وہی کر سکتا ہے جو کامیاب پسپائی کا راز جانتا ہو ۔ جسے پینا بزدلی نہیں حکمت عمل ہے ۔ اقتدار سے نہ ہلکا نا ظلم کو برداشت کرنا نہیں بلکہ ظلم کو جڑ سے مٹانے کی طاقت فراہم کرنا ہے۔ سیاست کو ترک کرنا سیاسی خودکشی نہیں بلکہ معاشرہ کے دیگر عوامل کو بروئے کار آنے کا موقع دینا ہے۔ احتجاج سے گریز کرنا مسئلہ سے صرف نظر کرنا نہیں بلکہ اپنی قوتوں کو مثبت تعمیر کی راہ میں لگانا ہے۔ جو شخص فوری رد عمل کے تحت سیاست کے میدان میں کود پڑتا ہے اس سے زیادہ سیاست سے نا واقف اور کوئی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues