جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳
تاریخ انسانی عمل کا ریکارڈ ہے۔ لیکن تاریخ کو اگر افسانہ بنادیا جائے تو وہ ایک ایسا ذہنی کار خانہ بن جاتی ہے جس میں صرف خوش فہمی کی مہلک گولیاں تیار ہوتی ہوں ـــــ ایک سوچا سمجھا ہوا منصوبہ تھا نہ کہ محض پر جوش اقدام طارق بن زیاد رمضان 91ھ میں اسپین کے ساحل پر اترے تو ان کے ساتھ سات ہزار کا لشکر تھا۔ ساحل افریقہ اور اسپین کے درمیان دس میل کی آبنائے کو، ان کے لشکر سے چار کشتیوں کے ذریعہ پار کیا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ زمانہ کے ایک مورخ اسلام “ لکھتے ہیں:
” اس سے اس زمانہ کے جہازوں کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے تھے“ موصوف نے قیاس کیا کہ پورا لشکر ایک ہی بار چار کشتیوں پر لاد کر دوسری طرف پہنچ گیا ہوگا۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں۔ اس زمانہ میں ایسی کشتیاں وجود میں نہیں آئی تھیں جن پر دو ہزار فوجی اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ بیک وقت بیٹھ سکیں۔ اصل یہ ہے کہ ان لشکر یوں نے کئی پھیروں میں آبنائے طارق کو پار کیا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی کے آخر تک مسلمانوں نے افریقہ کو بحر روم کے آخری ساحل تک فتح کر لیا تھا۔ باز نطینی سلطنت ایشیا اور افریقہ سے ختم ہو چکی تھی۔ تاہم مراکش کے ساحل پر سبطہ اور اس کے مضافات کے علاقے اب بھی اسپینی گورنر سیلیان (کاونٹ جولین) کے قبضہ میں تھے۔ یہاں رومیوں نے زبردست قلعہ بنایا تھا موسیٰ بن نصیر نے اس کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ان کی طاقت دیکھ کر بالآخر انہوں نے مصلحت یہ سمجھی کہ جولین سے صلح کرلیں اور اس ساحلی قلعہ کو اس کے قبضہ میں چھوڑ دیں۔ افریقہ سے باز نطینی سلطنت کے خاتمہ کے بعد جولین نے اپنے سیاسی تعلقات اسپین کی عیسائی حکومت سے قائم کر لئے۔ سبطہ اس وقت اندلس کا ایک سمندر پار صوبہ سمجھا جاتا تھا۔ اندلس سے برابر کشتیوں کے ذریعہ اس کو مدد پہنچتی رہتی تھی۔
یہاں یہ سوال ہے کہ جو مسلمان اسپین کے ایک ماتحت گورنر نے خود اپنے مفتوحہ بر اعظم میں صلح کرنے پر مجبور ہوئے تھے، انھوں نے سمندر پار کر کے خود اسپین پر حملہ کرنے کی جرات کس طرح کی۔ اس کا جواب زیر بحث مسئلہ کے تاریخی مطالعہ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues