جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۱۴
منڈھہ میں قوط (گاتھ) قبائل اپین میں گھس آئے اور پانچ سو سالہ رومی سلطنت کو ختم کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بعد کو ان لوگوں نے ٹھیک اسی طرح کسی مذہب کو اختیار کر لیا جس طرح ترکوں کے ایک گروہ بنو سلجوق نے مسلم دنیا پر قابض ہونے کے بعد اسلام قبول کرلیا۔ گاتھ کا مقصد اس تبدیلی مذہب سے یہ تھا کہ مقامی عیسائیوں کو مطمئن کرکے اسپین میں اپنے سیاسی اقتدار کو مستحکم کرے۔ جس زمانہ میں مسلمانوں نے بازنطینی اقتدار کو شام ، مصر، فلسطین سے ختم کیا ملیطہ (ٹالیڈو) پر گاتھ کا آخری بادشاہ ڈینیکا (فیٹشر) حکمران تھا۔ ڈینیکا کی بعض کمزوریوں سے اس کے ایک فوجی افسر ذریق (RADRICK) کو موقع ملا کہ وہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے اور خود اسپین کا حکمران بن جائے۔ سبطہ کا گورنر جولین اگرچہ ڈینیکا کا رشتہ دار نہ تھا۔ تاہم اس نے مصلحت کے تحت اپنی وفاداریاں رذریق سے وابستہ کردیں۔ مگر بعد کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کو بے حد مشتعل کر دیا۔ اور اس کو اپنے بادشاہ کا مخالف کر کے مسلمانوں کے قریب کر دیا جو افریقی براعظم میں اس کے جغرافی پڑوسی تھے۔
اس زمانہ میں اسپین کا حکمران طبقہ بدترین قسم کی عیاشیوں کا شکار تھا۔ رواج کے مطابق امرا کی لڑکیاں عرصہ تک شاہی محل میں رکھی جاتی تھیں تاکہ شاہی آداب وقواعد کو سیکھ سکیں اور بادشاہ کی خدمت کریں۔ رذریق کے عہد میں جولین کی لڑکی فلور نڈا بھی اسی رواج کے مطابق شاہی محل میں داخل ہوئی۔ لڑکی جوان ہوئی تو رذریق اس پر فریفتہ ہو گیا اور جبر یہ طور پر اس کی عصمت دری کی لڑکی نے کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع اپنے باپ کو دی۔ جولین کو اس واقعہ کا انتہائی صدمہ ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک رذریق کی سلطنت کو دفن نہ کرے، چین سے نہ بیٹھے گا۔ اولا وہ طلیطلہ گیا اور لڑکی کی ماں کی بیماری کا بہانہ کرکے اس کو سبطہ واپس لایا۔ اس کے بعد وہ موسیٰ بن نصیر سے ملا اور اس کو اکسا کر تسخیر اندس پر آمادہ کیا۔ اس نے موسیٰ کو اندس کی اندرونی کمزوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ وہ اور خود اندس کے بہت سے لوگ اس مہم میں اسلامی فوج کا ساتھ دیں گے۔ یہ واقعہ ۹۰ھ کا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جولین نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام مسلم رکھا تھا۔
اس کے بعد موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے خط و کتابت کی کئی خطوط کے بعد ولید نے لکھا: مسلمانوں کو خوفناک سمندر میں نہ ڈالو۔ اگرچہ پر امید موجب بھی ابتدائے تھوڑی سی فوج بھیج کر صحیح اندازہ کرو" موسیٰ نے رمضان ۹۱ھ میں ایک شخص طریف کو، جس کی کنیت ابوزرعہ تھی پہلی مہم کے طور پر پانچ سو آدمیوں کے ساتھ اسپین روانہ کیا۔ جولین بھی ان کے ساتھ تھا۔ شمالی افریقہ کے ساحل ملک مراکش اور اسپین کے درمیان صرف دس میل کا آبی فاصلہ ہے۔ ان لوگوں نے چار کشتیوں کے ذریعہ اس کو عبور کیا اور دوسری طرف ساحل پر اتر گئے ۔ یہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہے اور وہاں کے حالات کا اندازہ کرکے دوبارہ واپس آگئے۔ اس کے بعد اگلے سال رمضان ۹۲ ھ میں طارق بن زیاد کی سرکردگی میں سات ہزار کا لشکر تیار کیا گیا۔ دس میل کی آبنائے کو پار کرکے جب وہ لوگ اسپین کے ساحل پر اترے تو کہا جاتا ہے کہ طارق نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں۔ مگر کشتیاں جلانے کا واقعہ بعد کا اضافہ شدہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں، اور آج بھی، فاتح
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues