Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 16

جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۱۶

طارق نے پیام رسانی کا یہ تمام کام کشتیوں کے ذریعہ کیا۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ اور پھر یہ کشتیاں ہی تھیں جنھوں نے پانچ ہزار فوجیوں کی دوسری قسط کو اسپین کے ساحل پر اتارا، جس کے بعد طارق اس قابل ہو سکے کہ وہ اسپین پر حملہ کر سکیں۔ طارق اگر اسپین کے ساحل پر اترتے ہی اپنی کشتیوں کو جلا دیتے تو یہ پیغام رسانی ممکن نہ ہوتی۔ اور نہ مقابلہ کے وقت فرید کمک پہنچ سکتی۔

اس معرکہ میں جو لین بھی پوری طرح طارق کے ساتھ تھا۔ اس نے شاہ زریق کے خلاف مقامی باشندوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھایا اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر اسپمنی شہریوں کی ایک جماعت طارق کی خدمت میں حاضر کر دی۔ ان لوگوں نے دشمن کی خبریں فراہم کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا اور فوجی اعتبار سے کم زور مقامات کی اطلاع مسلمانوں کو دی اور مسلمانوں کی رہبری کرتے رہے۔ یہ واقعہ بھی مسلمانوں کے لئے ایک نعمت ثابت ہوا کہ تین سال (۹۰-۸۸ھ) تک اندلس میں سخت قحط پڑا تھا، اس کی وجہ سے اتنے لوگ مرے کہ کہا جاتا ہے کہ اندلس کی آبادی آدھی رہ گئی۔ مزید یہ کہ زریق کی ایک لاکھ فوج میں ایک عنصر ایسا بھی تھا جو سابق شاہ اسپین سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے باغی زریق کا اندر اندر مخالف تھا۔ ان کے فوجی سرداروں میں شسرت اور ابتے بھی تھے جو سابق شاہ کے بیٹے تھے۔ انھوں نے اپنی خفیہ میٹنگ کی اور کہا:

"زریق خبیث ہمارے ملک پر خواہ مخواہ مسلط ہو گیا ہے، حالاں کہ شاہی خاندان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو ہمارے یہاں کے کینوں میں سے ہے۔ رہے مسلمان، وہ تو صرف وقتی لوٹ مار کے لئے آئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں گے۔ اس لئے مقابلہ کے وقت اس خبیث کو زک دینے کے لئے ہم کو خود شکست کھا جانا چاہئے"

زریق کی فوج کے ایک حصہ نے نہایت سخت جنگ کی۔ مگر غیر مطمئن فوجیوں نے جنگ میں زور نہیں دکھایا۔ بالآخر شکست ہوئی اور زریق میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد وہ نہ زندہ مل سکا نہ مردہ۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگنے کے دوران وہ ایک دلدل میں پھنس کر مر گیا۔

اسپین کے بعض علاقوں کو طارق نے فتح کیا۔ بعض کو مغیث رومی نے، بعض کو موسیٰ بن نصیر نے، جو بعد کو مہا ہزار فوج کے ساتھ اندلس میں داخل ہوئے تھے۔ رعایا کی اپنے بادشاہ اور سرداروں سے بیزاری کی وجہ سے ان کو خود اسپینیوں میں مددگار اور جاسوس ملتے چلے گئے۔ تمام مورخین لکھتے ہیں کہ غیر مسلم جاسوسوں نے اسپین کی ابتدائی فتوحات میں بہت مدد کی تھی۔

خدا کی یہ دنیا کوئی طلسماتی کارخانہ نہیں ہے۔ یہ نہایت محکم اصولوں پر قائم ہے۔ یہاں کوئی واقعہ ان قوانین سے مطابقت کرنے کے نتیجہ ہی میں ظاہر ہوتا ہے جن پر دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ جو شخص یا قوم اپنے لئے کوئی حقیقی مستقبل دیکھنا چاہے اس کے لئے لازم ہے کہ وہ فطرت کی انی بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو خدا کی اس دنیا میں اس کا کوئی انجام نہیں۔ خواہ اپنے طور پر وہ اپنے بارے میں کتنا ہی زیادہ خوش فہمی میں مبتلا رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page