جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷
ہماری زندگی کا ایک دردناک پہلو سابق وزیر اعظم ملایشیا تنکو عبدالرحمن نے بتایا کہ ملایشیا میں جو غیر مسلم آباد ہیں، وہ اسلام کے بارے میں جاننے کے بہت شائق ہیں، مگر مسلمانوں کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ ان کو اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ البتہ الیکشن کے موقع پر غلط قسم کی سیاست بازی کے ذریعہ وہ غیر مسلموں کو اسلام سے کچھ متوحش کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت ”پرکم “ کی کوششوں سے ملایشیا میں تقریباً ۳۰ ہزار اور صباح میں ایک لاکھ آدمی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ سراوک میں ہر دن لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ مگر مسلمان ان کو اپنے معاشرہ میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حتیٰ کہ بعض لوگ ان نومسلموں سے مصافحہ تک نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے خیال کے مطابق" ان کے ہاتھ سور کی چربی سے گندے ملایشیا کی حکومت نے جزیرہ نما میں نئی سڑکوں کی تعمیر کے لئے ایک بلین ڈالر کا منصوبہ بنایا ہے۔ ہو چکے ہیں“:۔
تنکو عبدالرحمن لکھتے ہیں :
TODAY I AM FIGHTING A LONE BATTLE TO GET THESE MUSLIM CONVERTS ACCEPTED INTO THE MALAY COMMUNITY. ان نو مسلموں کو ملایا کے مسلم معاشرہ میں شامل کرنے کے لئے میں ایک تنہا جنگ لڑ رہا ہوں اسلامک ہیرالڈ، کوالمپور، دسمبر ۱۹۷۷ء تنکو عبدالرحمن اپنی سیاسی زندگی کے زمانہ میں ملیشیا کی مقبول ترین شخصیت تھے۔ مگر جب انھوں نے سیاست کی ہنگامی زندگی کو چھوڑ کر تعمیری کام کرنا چاہا تو اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا ہیں۔ ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ۔
یہی موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال ہے۔ وہ کسی قائد کا ساتھ صرف اس وقت دیتے ہیں جب کہ وہ ان کو جذباتی سیاست کی شراب پلا رہا ہو۔ خاموش کام کرنے والوں کا ساتھ دینے کا اس کے اندر حوصلہ نہیں۔ اس مشکل کا واحد حل یہ ہے کہ ہمارے درمیان کچھ قائد ایسے نکلیں جو عزت و شہرت کی قربانی پر اپنے آپ کو خاموش تعمیری کاموں میں لگا دیں۔ جب قائدین کی ایک نس اس طرح اپنے آپ کو گم نامی کے قبرستان میں دفن کر چکی ہوگی ، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ملت کو حقیقی معنوں میں دنیا کے اندر عزت و سربلندی کا مقام حاصل ہو۔ اگر ہمارے قائدین شہرت و عزت کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہوں اور عوام کو تعمیری کام کا وعظ سنائیں ، تو یہ کام کبھی انجام نہیں پاسکتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ تنکو عبدالرحمن جیسے تعمیری کام کا ذوق رکھنے والے ہمارے یہاں صرف استثناء کا درجہ رکھتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues