اللهم انی قد رضیت عن عثمان فارض عنه، اللهم انی
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰
خلیفہ سوم کے خلاف اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا ہونے کی وجہ کیا تھی جس سے بالآخران کی جان لے لی۔ مورخین کے بیان کے مطابق یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا۔ حضرت عثمان کی خلافت کے بارے میں بعض وجوہ سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی تھی۔ اسی بیچ میں یہ واقعہ ہوا کہ مصر کے عامل عبد اللہ بن ابی سرح کی زیادتیوں سے اہل مصر کو شکایت ہوئی۔ لوگ مدینہ آئے اور مطالبہ کیا کہ اس کو معزول کیا جائے۔ حضرت عثمان نے حضرت علی منہ کے مشورہ سے عبد اللہ بن ابی سرح کو معزول کر دیا۔ اور محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر رض کے لئے مصر کی امارت کا فرمان لکھ دیا۔ مصری اس فرمان کو لے کر اپنے ملک کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ محمد بن عبد الرحمن بھی تھے۔ راستہ میں انھوں نے دیکھا کہ حضرت عثمان کا غلام خلیفہ کے اونٹ پر سوار ہو کر تیزی سے مصر کی طرف جا رہا ہے ۔ دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ وہ خلیفہ کی طرف سے ایک خط لے کر مصر کے حاکم (عبد اللہ بن ابی سرح) کے پاس جا رہا ہے۔ انھوں نے زیر دستی کر کے غلام سے خط چھین لیا۔ اس میں لکھا تھا کہ محمد اور انکے ساتھی مصر پہنچیں تو ان کو قتل کر دیا جائے اور نا حکم ثانی عبد اللہ بن ابی سرح مصر کا حاکم رہے۔ یہ خط حضرت عثمان کے چچازاد بھائی مروان بن حکم نے لکھا تھا اور خلافت کی مہر لگا کر اس کو غلام کی معرفت مصر روانہ کر دیا تھا۔ مگر مصریوں نے اس کو خود خلیفہ سوم کی جانب سے سمجھا اور یہ رائے قائم کی کہ ان کے ساتھ غداری کی گئی ہے کہ ایک طرف تو عبد اللہ بن ابی سرح کی معزولی کا حکم نامہ ہم کو دیا گیا اور دوسری طرف عبد اللہ کو خفیہ خطر وا نہ کر دیا گیا کہ ان سب لوگوں کو قتل کر دو اور تم اپنے عہدہ پر بحال رہو۔ چنانچہ وہ راستہ سے لوٹ آئے اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ دوبارہ مدینہ میں داخل ہو گئے۔ ان کا رد عمل اتنا شدید تھا کہ کسی کے سمجھانے بجھانے سے کم نہ ہو سکتا تھا۔ انھوں نے حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا اور بالآخر انھیں قتل کر ڈالا۔ اس لئے قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی خبر ملے تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے خوب تحقیق کر لو :
اے ایمان والو! کوئی شریر آدمی تمھارے پاس خبر لائے یا ایہا الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا تو خوب تحقیق کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم پر ان تصیبوا قوما بجہالة فتصبحوا علی ما جا پڑو پھر تم کو اپنے کے پر پچھتا ناپڑے ۔
فعلتم نندمین ( حجرات (۶)
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابی محیط کو قبیلہ بنی المصطلق کی زکاۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، قبیلہ کے لوگ ان کی آمد کو سن کر ان کے استقبال کے لئے نکلے ۔ ولید کی اس قبیلہ سے زمانہ جاہلیت میں کچھ شکایت تھی، وہ سمجھے کہ یہ لوگ میرے قتل کے لئے نکلے ہیں، اس لئے وہ بستی میں داخل ہونے سے پہلے مدینہ واپس آگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ قبیلہ کے لوگ میرے قتل کے درپے ہو گئے اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔ آپ نے ارادہ کیا کہ ان کی سرکوبی کے لئے حضرت خالد کی سرکردگی میں ایک فوجی دستہ روانہ کریں۔ اسی درمیان میں قبیلہ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ضرار آگئے جو ام المومنین جویریہ کے والد بھی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے زکوٰۃ جمع کر رکھی تھی مگر ولید بن عقبہ ہمارے یہاں پہنچے ہی نہیں۔ ہم تو اسلام پر قائم ہیں اور اللہ کے حقوق ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ (ابن کثیر) اس حکم دیا گیا کہ جب کسی کے متعلق کوئی خبر ملے تو کارروائی کرنے سے پہلے پوری تحقیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ خبر غلط ہو اور اس کی بنا پر تم غلط اقدام کر بیٹھو۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues