اللهم انی قد رضیت عن عثمان فارض عنه، اللهم انی
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۱۹
اللهم انی قد رضیت عن عثمان فارض عنه، اللهم انی
قد رضیت عن عثمان فارض عنه اے اللہ میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔
ایک بار حضرت عثمان کے ایثار و قربانی سے آپ اتنا خوش ہوئے کہ دعا کا یہ کلمہ دن بھر آپ کی زبان سے نکلتا رہا۔ تاہم یہی عثمان بن عفان تھے جن کے خلاف ان کی خلافت کے بعد کے سالوں میں سارے ممالک اسلامی میں شورش برپا ہو گئی۔ اس شورش کے پیدا کرنے میں متعدد مخلص اور مقدس لوگ بھی شریک تھے۔ یہ شورش اتنی بڑھی کہ ہزاروں کی تعداد میں بلوائی مختلف ملکوں سے جمع ہو کر مدینہ میں گھس گئے۔ انھوں نے حضرت عثمان کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔ آپ کے گھر میں پانی کا داخلہ روک دیا۔ آپ کے لئے مسجد نبوی میں جا کر نماز پڑھنا نا ممکن بنا دیا۔ جب شدت بہت بڑھی تو آپ اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور بلوائیوں کو خطاب کیا:
عن ثمامة بن حزن القشیری، قال شهدت الدار ثمامہ بن حزن القشیری کہتے ہیں۔ عثمان بن عفان کے محاصرہ حین اشرف علیهم عثمان فقال: انشدکم الله والاسلام کے وقت میں ان کے گھر کے پاس موجود تھا۔ وہ مکان کے اوپر هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم چڑھے اور لوگوں سے کہا۔ میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم المدينة وليس بها ماء يستعذب غير بئر رومة دلاتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فقال من يشتري بئر رومة يجعل دلوه مع دلاء کر کے مدینہ آئے اور یہاں صرف ایک یہودی کا کنواں بئر رومہ تھا المسلمين بخير له منها في الجنة۔ فاشتريتها من جس سے میٹھا پانی لیا جا سکے وہ بہت مہنگی قیمت پر فروخت کر رہا لب مالی، وانتم اليوم تمنعوني ان اشرب منها۔ تھا) رسول اللہ نے کہا۔ کون بئر رومہ کو خرید لے۔ کہ وہ بجلی اس فقالوا، اللهم نعم۔ فقال انشدكم الله والاسلام هل سے پانی لے اور مسلمان بھی پانی لیں۔ جنت میں اس کو اس سے بہتر تعلمون ان المسجد ضاق بهاء نه قال رسول الله جگہ میں نے (۳۵ ہزار درہم) کے عوض اس کو خریدا۔ اور تم صلى الله عليه وسلم من يشتري بقعة آل فلان مجھ کو اس سے پانی پینے سے روکتے ہو۔ لوگوں نے جواب دیا۔ خدا یا فيزيدها في المسجد بخير له منها فى الجنة ہاں۔ پھر عثمان بن عفان نے کہا۔ میں تم کو قسم دلاتا ہوں اللہ کی فاشتريتها من صلب مالی، فانتم اليوم تمنعوني اور اسلام کی۔ کیا تم جانتے ہو کہ مسجد نبوی تنگ پڑ گئی تو رسول اللہ ان اصلی فيها ركعتين - فقالوا اللهم نعم ۔ ۔ قال الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون فلاں زمین کو خرید کر مسجد میں اکبر، اشهد و ا رب الكعبة انی شهید، ثلاثا۔ اضافہ کر تا ہے۔ جنت میں اس کو اس سے بہتر ملے گا۔ میں نے اس (ترندی - نسائی، دار قطنی) کو اپنے مال سے خریدا۔ اور تم مجھ کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے روکتے ہو۔ لوگوں نے کہا خدایا ہاں ۔ عثمان بن عفان نے کہا اللہ اکبر۔ رب کعبہ کی قسم، تم لوگ گواہ رہو کہ میں شہید ہوں ان سب کے باوجود لوگوں نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا۔ اور قتل کرنے والے اور ان کا ساتھ دینے والے سب کے سب نماز روزہ والے تھے۔ اور اپنے کو مکمل معنوں میں مسلمان سمجھتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues