کلام نبوت
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰
بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ رواه الترمذي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ اَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافاً ، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ رواء مسلم لا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ أَظْلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاؤُا فَلا تَظْلِمُوا۔ (مشكوة باب الظم) البرحسن الخلق۔ والاثم ما حال في صدرك وكرهت ان يطلع عليه الناس عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عُرْوَةَ السَّعْدِيَّ السَّحَانِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لاَ يَبْلُغُ العَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَالَا بَأْسَ بِهِ حَذَراً لِمَا بَأْسَ" رواه الترمذي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : "مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " يَتَّقِي اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ "، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قَالَ : " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرِ ! " قِيلَ وَمَا الكبر - قال الكبر بَطَرُ الحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ" رواه مسلم عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْراً أَوْ لِيَصْمُتْ " مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قال : " اَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ ؟ “، قَالُوا : الله کے دین کے لئے مال اور عزت کی حریص پہنچاتی ہے۔ کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اسلام اختیار کیا، اس کو بقدر ضرورت رزق ملا، اور اللہ نے جو کچھ اس کو عطا فرمایا، اس پر اس کو قانع بنا دیا۔
مت کہو کہ لوگ اچھا سلوک کریں تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے، اگر لوگوں نے بدسلوکی کی تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کا خوگر بناؤ کہ لوگ اچھا سلوک کریں تو تم بھی اچھا سلوک کرو۔ اگر لوگ برا سلوک کریں تو تم ظالم نہ بنو۔
نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے۔ گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے، اور تم کو ناپسند ہو کہ لوگ اس سے باخبر ہو جائیں۔ بندہ اس وقت تک تقویٰ کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کا حال یہ نہ ہو جائے کہ گناہ کے اندیشے سے ایسی چیز کو چھوڑ دے جس میں بظاہر گناہ نہیں ہے۔ ایک شخص نے پوچھا، اے خدا کے رسول، لوگوں میں بہتر کون ہے، آپ نے فرمایا، جو اللہ کے راستے میں اپنی جان و مال کے ساتھ جدوجہد کرے، پوچھا پھر کون، فرمایا جو اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے۔ جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی گھمنڈ ہو۔ پوچھا گیا، گھمنڈ کیا ہے فرمایا، حق بات نہ ماننا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کو چاہئے کہ بات کہے تو بھلی بات کہے ورنہ چپ رہے۔
آپ نے فرمایا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے۔ لوگوں نے جواب دیا۔ اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues