Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 24

ایک خاندانی جھگڑا جو پوری تاریخ پر چھا گیا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۲۴

پہلے انہوں نے نبوت کی مخالفت کرکے بنی ہاشم کو زیر کرنا چاہا۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام مخالفین کو شکست دے کر مکہ پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ظاہر ہو گیا کہ نبوت کی مخالفت کرنا فضول ہے۔ ابوسفیان، ان کے لڑکے معاویہ اور دوسرے امویوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تاہم یہ احساس لوگوں کے اندر باقی رہا کہ نبوت کے بعد سیاسی اقتدار بنی ہاشم کے ہاتھ میں نہ جانے دیں گے۔

حضرت عمرؓ اپنے بعد علیؓ بن ابی طالب کو خلافت کے لئے موزوں ترین شخص سمجھتے تھے۔ مگر غالباً اسی اندیشہ کی بنا پر وہ آنجناب کو نامزد نہ کرسکے۔ حضرت عثمان جو خاندان امیہ کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی شہادت کے بعد جب حضرت علیؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو بنوامیہ کے لئے یہ بالکل ناقابل برداشت تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد قصاص کے مسئلہ نے ان کو فوری طور پر ایک کامیاب سیاسی حربہ دے دیا ۔ اس جذباتی نعرہ پر انہوں نے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو اپنے پتہ گرد اکٹھا کیا۔ اگر چہ وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے کہ خلیفہ چہارم کو منصب خلافت سے ہٹادیں ۔ تاہم معاویہ بن ابی سفیان بن حریون امیہ نے اپنی گورنری سے فائدہ اٹھا کر مملکت اسلامی کے نصف سے زیادہ حصہ کو سیاسی طور پر کاٹ لیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے نام پر عوام میں ایسی آگ بھڑ کائی کہ کچھ لوگوں نے مجنونانہ طور پر حضرت علی کو قتل کر دیا۔ جنگ جمل اور جنگ صفین جس میں ۹۰ ہزار مسلمان کٹ گئے اور دس سال کے لئے اسلام کی توسیع کا سیلاب رک گیا ، وہ دراصل امویوں اور ہاشمیوں کی اسی خاندانی لڑائی کا شاخسانہ تھا جس نے پوری ملت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

حسن بن علی اس راز کو اچھی طرح سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے ۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی حسین بن علی کو بھی مشورہ دیا کہ خلافت کے معاملہ سے بالکل الگ ہو جائیں کیونکہ لوگ اس کے لئے تیار نہیں ہیں کہ نبوت اور خلافت دونوں کو علوی خاندان میں جمع ہونا برداشت کر لیں ۔ مگر حضرت حسین کی رائے یعنی کہ حق کے لئے جان دے دینا باطل کے آگے سر جھکانے سے زیادہ بہتر ہے۔ انھوں نے خلافت کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ یہ واقعہ سانحہ کربلا ہے۔

اس کے بعد اموی حکومت قائم ہو گئی ۔ مگر بنو امیہ کو بنو ہاشم کے خلاف جو بغض و عناد تھا ، وہ ان کے انتظام ملکی میں ظاہر ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ ان کا ذہن یہ بن گیا کہ ہاشم کی اولاد کا خاتمہ کر دو تاکہ مستقبل میں کوئی خلافت کا دعوے دار باقی نہ رہے۔ ان وجوہ سے وہ فضا پیدا نہ ہوسکی جس میں بنو ہاشم اپنی سیاسی حق تلفی کو بھول جاتے۔ اندر اندر ان کے دل میں مخالفت کی آگ سلگتی رہی ۔ یہاں تک کہ ۱۳۲ ھد کے خاتمہ نے یہ دوسرا انقلاب دیکھا کہ بنوعباس نے ایرانیوں کی مدد سے بنوامیہ کا خاتمہ کر دیا۔

بنوامیہ کا فتنہ انتہائی شدید تھا۔ مگر وہ تمام تر سیاسی تھا ۔ اس لئے سیاست کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو گیا۔ مگر بنو ہاشم سے یہ جوابی غلطی ہوئی کہ انہوں نے کو اپنا حق ثابت کرنے کے لئے انھوں نے خلافت کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ اس غلطی نے ایک سیاسی قضیہ کو مذہبی حیثیت دے دی اور اس امکان کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا کہ دوسرے سیاسی

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page