Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 25

ایک خاندانی جھگڑا جو پوری تاریخ پر چھا گیا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵

جھگڑوں کی طرح یہ جھگڑا صرف وقتی نقصان پہنچائے اور بعد کی نسلوں کے لئے محض تاریخ کا موضوع بن کر رہ جائے۔ سیاست کو مذہب بنانے کی اس غلطی نے اسلام کو جو نقصانات پہنچائے ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر وضع حدیث کا فتنہ سب سے پہلے اسی محرک کے تحت شروع ہوا۔ بے شمار حدیثیں دونوں طرف سے گھڑی گئیں ایک طرف بنو ہاشم نے حضرت علی کی فضیلت میں یہ حدیث نکالی:

انا مدينۃ العلم وعلى بابها میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں دوسری طرف فریق ثانی نے ایک روایت گھڑی اور کہا کہ پوری حدیث دراصل اس طرح ہے:

انا مدينۃ العلم وابو بكر اساسها وعمر حيطانها وعثمان سقفها وعلى بابها میں علم کا شہر ہوں، ابو بکر اس کی بنیاد ہیں، عمر اس کی دیواریں، عثمان اس کی چھت ہیں، علی اس کا دروازہ ہیں اس قسم کی چیزوں سے اسلام کو جو عملی نقصان پہنچا، اس کی تلافی اب ممکن نہیں۔ تاہم یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنی رحمت خاص سے قرآن کو محفوظ کر دیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان جھگڑوں اور ان کے پیدا کردہ فتنوں میں دین حق گم ہو جاتا اور اللہ کے بندے قیامت تک کے لئے بے آمیز سچائی کو جاننے سے محروم ہو جاتے۔ تاریخ کی تمام کامیابیاں باہمی اتفاق کا نتیجہ ہیں اور تاریخ کی تمام ناکامیاں باہمی اختلاف کا نتیجہ ہیں۔ انسان، خواہ ذاتی طور پر نیک اور مخلص کیوں نہ ہوں، ان میں ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہونا بالکل ناگزیر ہے۔ کسی نہ کسی وجہ سے، حتی کہ بعض اوقات بلا وجہ بھی، دو افراد یا دو گروہوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لئے اتحاد کی واحد صورت یہ ہے کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے۔ کیونکہ اختلاف سے خالی انسانی معاشرہ اس زمین پر ممکن ہی نہیں۔ وہی لوگ کوئی بڑا کام کر سکتے ہیں جو ذاتی اعتبارات پر قومی اعتبارات کو ترجیح دے سکیں ۔ جو اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھا چکے ہوں کہ اختلافی باتوں کو نظر انداز کر کے عملی اتحاد پر قائم رہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے کوئی رکاوٹ، رکاوٹ نہیں بنتی۔ کسی دشمن کی سازش یا عداوت ان کو نقصان پہنچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔ ان کا ہر حال میں متحد رہنا ایک ایسی طاقت بن جاتا ہے جو ہر امکانی صورت حال سے نمٹنے کی یقینی ضمانت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ذاتی شکایتوں سے اوپر اٹھ کر سوچنا نہ جانتے ہوں، جو ذاتی اختلافات کو اجتماعی مفاد پر قربان نہ کر سکیں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ ان کی کوششیں یا تو محدود ہو کر رہ جاتی ہیں یا خود اپنے بھائیوں کو نقصان پہنچانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے وسائل اور مواقع کو اپنے اندرونی جھگڑوں میں برباد کرتے رہتے ہیں۔ ان کے اندر ہمیشہ ایسے کمزور گوشے باقی رہتے ہیں جہاں سے ان کا دشمن ان کے اندر گھس آئے اور ان کے بارے میں اپنے خطرناک منصوبوں کو پورا کر سکے۔ یہ اختلافی سیاست اس وقت اور زیادہ مہلک ہو جاتی ہے جب کہ اس کو عقیدہ بنا لیا جائے۔ سیاسی اختلاف کبھی نہ کبھی ختم ہو جاتا ہے۔ مگر جب اس کو اعتقادی اختلاف کا درجہ دے دیا جائے تو اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ یہاں تک کہ خدا خود ظاہر ہو کر فیصلہ فرما دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page