Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 27

اسپین میں کیا ہوا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷

اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ آٹھ سو برس کی اس طویل مدت کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا جو بغاوتوں اور شورشوں سے خالی ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ اسپین کو اکثر بہت لائق مسلم حکمراں ملے، عدل وانصاف کے اعتبار سے بھی اور تمدن و سیاست کے اعتبار سے بھی۔ اور بلا شبہ انھوں نے مشکل حالات کے باوجود تمدن اور سیاست دانی کے اعتبار سے اسپین میں ایک عظیم تاریخ بنائی، مگر اندرونی حالات اور مرکز خلافت کی شہ کی بنا پر ملک کی عیسائی رعایا مسلسل بغاوتوں پر مائل رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ ماحول نہ بن سکا جس میں اس اہم ترین کام کی بنیاد پڑتی، جس کے لیے اسلام نے کشور کشائی اور جہاں بانی کے میدان میں قدم رکھا تھا، یعنی اشاعت دین کا کام۔ عرب اور اطراف عرب کے اکثر ممالک جنسی مدت میں مکمل طور پر اسلامی آبادی کے ملک بن گئے اس سے بہت زیادہ مدت پانے کے باوجود اسپین اسلامی آبادی کا ملک نہ بن سکا۔

اسپین میں مسلم حکومت کی مثال تقریباً ویسی ہی ہے جیسے آزادی سے قبل ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کی مثال۔ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے سو سالہ دور حکومت میں ملک کو زبردست تمدنی ترقیات سے مالا مال کیا۔ اگر چہ انھوں نے وہ غلطی نہیں کی جو اسپین کے مسلمانوں نے کی تھی، انھوں نے سارے ملک میں عیسائی مشنریوں کا جال بچھا دیا اور ان کو بے پناہ سہولتیں عطا کیں مگر کسی مذہب میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اس ملک کی آبادی کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ہندوستان سے انگریزوں کی ہوا کھڑی تو عالی شان عمارتیں اور بڑے بڑے پل ان کے کام نہ آسکے اور انھیں ہندوستان چھوڑ کر وطن واپس جانا پڑا۔

طارق بن زیاد نے جس اسلامی جذبے کے تحت اسپین کی سرزمین پر قدم رکھا تھا اگر وہ جذبہ جاری رہتا اور وہاں مستحکم حکومت کی روایت قائم ہو سکتی تو اسپین میں مسلمانوں کے سوا کسی کا وجود نہ ہوتا۔ دریا پار کرنے کے بعد اپنی طویل دعا میں اس نے رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیار ا کی آیت بطور بد دعا نہیں دہرائی تھی، بلکہ یہ اپنے اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ اس ملک کو کفر و شرک سے خالی کر کے اسلام کا گہوارہ بنا دنیا چاہتا ہے۔ مسلم اسپین کی ابتدائی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مگر چند ہی برس بعد وہاں کی سیاست کا رخ اس طرح بدلا کہ تبلیغ دین کا کام پس پشت پڑ گیا۔ ۱۲۲ ھ میں جب مرکز خلافت میں تبدیلی ہوئی اور بنوامیہ کی جگہ بنو عباس کی سلطنت قائم ہوئی تو اس ذہن کو مزید تقویت ملی۔ کیونکہ عباسیوں کو جتنی دلچسپی تمدن اور علوم وفنون کی ترقی سے تھی اتنی دین کی اشاعت سے نہیں تھی۔ اس طرح بغداد کے اثر سے قرطبہ تمدن اور علوم وفنون کا مرکز تو بن گیا مگر وہ اشاعت دین کا مرکز نہ بن سکا۔ چنانچہ اسپین میں جب حالات بدلے تو وہاں کی مسلم اقلیت پر عیسائی اکثریت آناً فاناً غالب آگئی اور الحمر کا بے مثال محل مسلمانوں کے کچھ کام نہ آسکا۔ چنانچہ عام آبادی میں عیسائیوں کو غلبہ حاصل تھا اس لیے ۹۰۲ھ میں قرطبہ کو زیر کرنے کے بعد جب مسلمانوں کے خلاف دار و گیر شروع ہوئی تو ان کے لیے وہاں بچنے کی

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page