Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 28

اسپین میں کیا ہوا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸

بھی کوئی جگہ نہیں تھی۔ عیسائیوں نے غالب آتے ہی تمام ملک میں اپنی مذہبی عدالتیں قائم کر دیں جن میں ہر روز ہزاروں مسلمان گرفتار کر کے لائے جاتے اور طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر آگ میں جلا دیے جاتے ہیں میں ایک عام حکم جاری کیا گیا کہ ہر وہ شخص جو مسلمان ہے وہ دین مسی کی قبول کرلے ورنہ جہاں اس کو پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ کچھ مسلمان جہازوں پر سوار ہو کر افریقہ کے لیے روانہ ہوئے مگر ان کو ساحل افریقہ تک پہنچنے سے پہلے ہی سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ آخر کار کوئی ایک بھی توحید پرست سرزمین اسپین میں باقی نہ رہا، عیسائیوں نے سب کو یا تو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ یا سمندر میں ڈبو دیا۔ یا آگ میں جلا ڈالا۔ خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومت بنی امیہ کے ہاتھ میں چلی گئی جن کے بانی امیر معاویہ روفات ۶۰ھ تھے اس سلسلہ حکومت کا پانچواں فرماں روا عبد الملک بن مروان تھا۔ ۸۶ھ میں عبدالملک کا انتقال ہوا ۔ انتقال سے پہلے اس نے اپنے دونوں بیٹوں ولید اور سلیمان کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس نے تمام صوبوں کے گورنروں اور عاملوں کے نام فرامین جاری کیے کہ عید الفطر کے اجتماع میں یکم شوال ۸۶ھ کو ولید و سلیمان کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی جائے۔ چنانچہ تمام ممالک اسلامی میں تاریخ مقررہ پر ان دونوں کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی گئی۔ یہی موقعہ ہے جب کہ مدینہ کے مشہور محدث سعید بن مسیب کو بیعت سے انکار کرنے پر دردرے لگائے گئے۔ عبد الملک بن مروان (۸۶-۲۳ھ) کے انتقال کے بعد جب اس کا بڑا لڑکا ولید تخت پر بیٹھا تو اس نے یہ کوشش شروع کی کہ اپنے بعد تخت کی وراثت اپنے بھائی (سلیمان) کے بجائے اپنے بیٹے (عبدالعزیز) کی طرف منتقل کر دے۔ ولید بن عبدالملک نے پہلے اپنے بھائی سلیمان کو لکھا کہ وہ از خود ولی عہدی سے دست بردار ہو جائے۔ جب سلیمان اس کے لیے تیار نہ ہوا تو اس نے دوسری تدبیر کی۔ اس نے تمام دالیان ملک اور ممتاز افراد کو اپنے حق میں ہموار کیا اور طے کیا کہ ایک روز کسی خاص اجتماع کے موقع پر تمام ممالک اسلامی میں سلیمان بن عبدالملک کی ولیعہدی کی منسوخی کا اعلان کر دیا جائے اور اس کے بجائے عبدالعزیز بن ولید کیلی پر لوگوں سے بیعت لے لی جائے۔

مگر اس منصوبہ کی تکمیل سے پہلے ۱۵ جمادی الثانی ۹۶ھ (فروری ۷۱۵ ء) میں اس کا انتقال ہو گیا۔ ولید بن عبدالملک کے انتقال کے بعد سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا تو قدرتی طور پر وہ ان سرداروں کا دشمن ہو گیا جنھوں نے اس کو تخت سے محروم کرنے کی سازش میں اس کے بھائی ولید کا ساتھ دیا تھا۔ اٹھیں میں سے ایک حجاج بن یوسف تھا جو مشرق کے اسلامی ممالک کا وائسرائے تھا اور مغربی ممالک کا وائسرائے موسیٰ بن نصیر تھا۔ حجاج کا صدر مقام عراق تھا اور موسیٰ بن نصیر کا قیروان۔ ان دونوں نے ولید کے منصوبہ کی حمایت کی تھی اس لیے دونوں سلیمان کی نظر میں وہ بدترین دشمن تھے جن سے سب سے پہلے نمٹانے حکمران کے لیے ضروری تھا۔ حجاج سلیمان بن عبدالملک کی تخت نشینی سے آٹھ ماہ پہلے شوال ۹۵ھ میں انتقال کر گیا تھا۔ اس لیے

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page