Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 31

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ تھا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۳۱

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ تھا

مسلم دنیا پر تاتاریوں کا حملہ ساتویں صدی ہجری کے ربع اول میں ہوا اس وقت بغداد کی سلطنت پر ناصر الدین اللہ کا قبضہ تھا اور خراسان میں خوارزم شاہ حکومت کر رہا تھا۔ دونوں میں سیاسی اختلاف پیدا ہو گیا۔ تاتاریوں کے ہاتھ سے مسلم دنیا کی غارت گری انھیں دو مسلم قائدین کے باہمی اختلاف کے نتیجہ میں وقوع میں آئی۔ خراسان کی سلطنت اگر چہ ایک آزاد سلطنت تھی۔ تاہم وہاں خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔ خوارزم شاہ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ناصر الدین اللہ کی مملکت کے ایک سرحدی حصہ (عراق) کو کاٹ کر اپنے علاقہ میں شامل کرلے۔ اس نے اپنے ملک میں ناصر الدین اللہ کا خطبہ موقوف کرا دیا۔ ناصر الدین اللہ اس خبر سے بہت خفا ہوا اور اس کے توڑ کے لئے یہ تدبیر کی کہ لڑاکو تاتاری قبائل کو اکسا کر خوارزم شاہ پر حملہ کرا دیا۔ یہ تدبیر نہ صرف خوارزم شاہ بلکہ پوری مسلم دنیا کے لئے ایک عذاب ثابت ہوئی۔ تاتاری جب خوارزم شاہ کو مغلوب کر چکے تو انھوں نے ناصر الدین اللہ کی سلطنت پر حملہ کر دیا اور بالآخر دونوں کو برباد کر ڈالا۔

خوارزم شاہ کو ۲۱ سال حکومت کرنے کا موقع ملا اور ناصر الدین اللہ کو ۴۷ سال۔ اس کے بعد دونوں میں سے ہر ایک اسی قبر میں لیٹ گیا جس میں وہ اپنے بھائی کو لٹانا چاہتا تھا۔ تاریخ کا یہ سبق بھی کتنا عبرت انگیز ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ کوئی اس سے سبق نہیں لیتا۔ ہر شخص جس کو موقع ملتا ہے۔ پہلی فرصت میں اسی تاریخ کو دہراتا ہے جو خوارزم شاہ اور ناصر الدین اللہ کے واقعہ کی شکل میں ہمیشہ کے لئے ناکام ہو چکی ہے اور آخرت میں ناکام تر شکل میں سامنے آنے والی ہے۔ ۱۰۹۵ سے لے کر اے ۱۲۶ تک یورپ کی مسیحی قوموں نے بلاد اسلامیہ پر آٹھ زبردست حملے کئے یہ حملے مغربی سمت سے ہوتے تھے اور ان کا مقصد "مقدس مقامات کو عیسائی قبضہ میں لینا تھا۔ مگر دو سو سالہ جنگ اس طرح ختم ہوئی کہ بالآخر یہ دشمن مسلمانوں ہی کے قبضہ میں رہا۔ اسی زمانہ میں ۱۲۲۰ء میں تاتاریوں (مغلوں) نے بلاد اسلامیہ پر حملہ کیا اور اس حد تک کامیاب ہوئے کہ سارے عالم اسلام کو زیر و زبر کر ڈالا۔ وہ چین کے شمالی پہاڑوں سے چنگیز خاں کی زیر قیادت نکلے اور ترکستان، ما وراء النہر، خراسان، آذربائیجان، اصفهان، افغانستان، فارس ، عراق، شام، ایشیائے کوچک، روس، آسٹریلیا تک تمام ملکوں کو لوٹ مار اور قتل و غارت کا قبرستان بنا دیا۔ مورخ ابن اثیر جو اس زمانہ کا عینی شاہد ہے، اس زمانہ کے واقعات بیان کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے قلم سے یہ الفاظ نکل جاتے ہیں: فمن الذي يسهل عليه ان يكتب نعی الاسلام کون ہے جس کے لئے آسان ہو کہ اسلام اور مسلمانوں کی ہلاکت و المسلمين؟ ومن الذی یهون ذکر ذلک ؟ کی داستان لکھے۔ اور کون ہے جس کے لئے اس کا ذکر آسان ہو۔ فياليت اومی لم تلدنی ویالیت مت قبل هذا وكنت کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا اور کاش میں اس سے نسيا منسيا.. پہلے مر گیا ہوتا اور ختم ہو گیا ہوتا۔ اگر کوئی کہے کہ جب آدم : فلو قال قائل ان العالم منذ خلق الله سبحانه پیدا کئے گئے، اس وقت سے لے کر اب تک ایسا حادثہ

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page